مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 333
دومشعل دوم فرموده ۱۹۷۲ء 333 انٹر پری ٹیشن (Interpretation) کی ہے جس سے صاف پتہ لگتا ہے کہ وہ ان کے اصول پر قائم نہیں رہے۔چین والے اس بات کو مانیں یا نہ مانیں لیکن حقیقت یہی ہے کہ اصول بدل گئے ہیں تا ہم چین والے کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے حالات کے مطابق اشترا کی نظریات کو انٹر پریٹ Interpret کیا ہے۔چنانچہ ایک دفعہ میں نے ایک چینی دوست سے کہا تم نے مارکس اور لینن کی تھیوریز کی اپنے حالات کے مطابق تعبیر کی ہے (میں نے اس کی تفصیل نہیں بتائی کیونکہ عام حالات میں یہ پسندیدہ نہیں سمجھی جاتی ) اور خدا تعالیٰ کے مقرب بندے اللہ تعالیٰ سے علم حاصل کر کے قرآن کریم کی ابدی صداقتوں کو اپنے ماحول کے مطابق Apply (اپلائی کرتے رہتے ہیں اور قیامت تک کرتے چلے جائیں گے۔اس لئے تم قرآن کریم پر یہ اعتراض نہیں کر سکتے کہ چودہ سو سال قبل جو کتاب نازل ہوئی تھی وہ آج کے مسائل کو کیسے حل کرے گی۔ڈیڑھ سو سال پہلے جو اصول وضع کئے گئے تھے۔اگر آج وہ بدلے ہوئے حالات پر چسپاں نہیں ہوتے اور تم نے اپنے حالات کے مطابق ان کی تعبیر وتشریح کے اصول کو تسلیم کر لیا ہے تو پھر قرآن کریم پر تمہارا اعتراض ختم ہو گیا۔گویا یہ ایک بنیادی اور بڑا اہم فرق ہے۔چینیوں نے بعض اشترا کی اصولوں کی اپنی عقل سے انٹر پری ٹیشن کی۔انہوں نے جب ان کو اپنے ماحول کے مطابق ڈھالا تو اپنی عقل کے مطابق ڈھالا۔مگر قرآن کریم کی ابدی صداقتوں اور اصولوں کو جب خدا کے بندوں نے بدلے ہوئے حالات میں بدلے ہوئے مسائل کو حل کرنے کے لئے ڈھالا تو خدا تعالیٰ سے علم حاصل کر کے ڈھالا۔خدا تعالیٰ علام الغیوب ہے۔اس کی راہنمائی میں جو چیز سامنے آتی ہے وہ غلط نہیں ہوسکتی۔اس واسطے تمہاری انٹر پری ٹیشن اتنی وزنی نہیں ہو سکتی جتنی خدا کے بندوں کی خدا داد علم وفراست کے نتیجہ میں ظاہر ہوتی ہے۔تاہم چینی دوستوں کو سمجھانے کے لئے ہم یہ کہتے ہیں کہ اگر یہ درست تسلیم کر لیا جائے کہ خدا کے بندے آتے رہے اور بعد میں بھی آتے رہیں گے (ہم تو یقینا تسلیم کرتے ہیں کہ خدا کے بند بے آتے رہے ہیں کیونکہ ہم نے اپنی زندگی میں خدا کے بندوں کا خدا سے زندہ تعلق دیکھا۔جنہوں نے خدا کے فضل سے ناممکن کو ممکن کر دکھایا لیکن اگر بحث کے لئے تھوڑی دیر کے لئے ہم ان سے کہیں کہ تم یہ مان لو کہ خدا کے بندے اور مقرب پیدا ہوئے اور انہوں نے اللہ تعالیٰ سے علم پا کر قرآن کریم کی ابدی صداقتوں کو بدلے ہوئے حالات کے مطابق استنباط اور تشریح کی۔ان کا ایسا کرنا انسانی فطرت اور عقل کو کارل مارکس کے ان نظریات کی نسبت زیادہ قابل قبول ہے جس نے خدا کے بتائے بغیر اپنی تھیوریز بنائیں اور خدا کے بتائے بغیران تھیوریز کو بروئے کارلانے کی کوشش کی۔یہ ایک موٹی بات ہے۔یا تو ہم انسان کے عقلی نظریات پر ایمان نہ لائیں یا خدا کے بندوں کی پیدائش اور ان کا دنیا میں آتے رہنے کا انکار کر دیں۔مگر یہ ہم کر ہی نہیں سکتے۔کیونکہ ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور آپ کے خلفاء کودیکھا۔علاوہ ازیں جماعت کے ہزار ہا دوستوں کو اللہ تعالیٰ سے آئندہ کے بارہ میں چھوٹی بڑی خبروں کو حاصل کرتے دیکھا۔ان کی دعاؤں کی قبولیت کو دیکھا۔اس لئے ہم اس یقین پر قائم ہیں کہ زندہ خدا سے