مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 332 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 332

332 فرموده ۱۹۷۲ء دو مشعل راه جلد دوم میں بھی بڑی چھوٹی ہے لیکن چودہ سو سال میں آگے روز بدلے ہوئے مسائل کو حل کرتی چلی آرہی ہے۔اور قیامت تک حل کرتی چلی جائے گی۔لیکن کارل مارکس جس کے متعلق آج دنیا میں کارل مارکس زندہ باد اور ایشیا سرخ کے بڑے نعرے لگ رہے ہیں اس کے نظریات اور خیالات پر مشتمل کتابیں قرآن کے مقابلہ میں بیچ ہیں۔بلکہ کوئی نسبت ہی نہیں ہے۔مارکس کے نظریات اور خود مارکس کی زندگی زمانہ کی نظروں سے دن بدن او جھل ہورہی ہے لیکن اسلام ابدی مذہب ہے اور اس کی رو سے ابدی حیات ایک ہی ذات کو حاصل ہے وہ محمد ﷺ کی ذات ستودہ صفات ہے اور اس تعلیم کو ابدی زندگی حاصل ہے جو آپ لے کر آئے تھے۔صلى الله چین ایک بہت بڑا ملک ہے آبادی کے لحاظ سے بھی اور رقبہ کے لحاظ سے بھی اور میں سمجھتا ہوں کہ اگر آج نہیں تو کل اثر ورسوخ کے لحاظ سے بھی بہت بڑا ملک بن جائے گا۔چین کارل مارکس زندہ باد کے نعرے لگانے والا ہے۔لیکن ( میں موازنہ کر رہا ہوں قرآن کریم کی تعلیم اور کارل مارکس کی تعلیم کا جس کے آج نعرے لگ رہے ہیں) چین نے یہ اعلان نہیں کیا کہ ہم مارکس اور لینن کی تھیوریز کے مطابق اپنے معاشرہ کی بنیاد ڈالیں گے۔چین نے ایسا کوئی اعلان نہیں کیا۔آپ اس نکتہ کو اچھی طرح سے یادرکھیں۔اس کے برعکس انہوں نے یہ اعلان کیا ہے کہ چین کے اندر اپنی اقتصادیات اور اپنے معاشرہ کی بنیاد مارکس اور لینن کی ان تھیوریز کے مطابق رکھیں گے جن کو چیر مین ماؤزے تنگ نے اپنے حالات کے مطابق ڈھال لیا ہے۔گویا اصول بدل گیا۔چیرمین ماؤ نے مارکس اور لین کی تھیوریز میں تبدیلی پیدا کر دی۔اس خیال سے کہ ان کے ملک کے حالات میں تبدیلی ناگزیر تھی۔بعض دوسرے اشترا کی ملکوں میں بھی کہہ دیا گیا کہ مارکس اور لینن کی بعض تھیوریز فرسودہ ہوگئی ہیں۔غرض مارکس نے زیادہ لکھا اور کم زمانہ میں اس کی بہت سی تھیوریز فرسودہ ہو گئیں مگر قرآن کریم نے تھوڑے الفاظ میں ابدی صداقتوں کو نہایت قرینے سے سجا کر اور بعض حصوں کو مصلحتا چھپا کر اس طرح بیان کر دیا ہے ( قرآنی علوم کے سجانے کے ساتھ ایک پہلو چھپانا بھی ہے لیکن یہ ایک الگ مضمون ہے ) کہ وہ چودہ سو سال کے بدلے ہوئے حالات میں انسان کی زندگی کے بدلے ہوئے مسائل اور الجھے ہوئے مسائل کو حل کرتا چلا آ رہا ہے۔یہ بگڑے ہوئے حالات کو زیادہ اچھے طریق سے سنوار تا آرہا ہے۔اور آج بھی سنوار رہا ہے۔میں نے اس مضمون پر بڑا غور کیا ہے مجھے اس سلسلہ میں بعض دفعہ بہت سارطب و یا بس بھی پڑھنا پڑتا ہے کیونکہ قرآن کریم سے موارنہ کرنے کے لئے ہر قسم کے خیالات اور نظریات کا جاننا ضروری ہے۔چنانچہ میں نے ایک زمانہ میں مارکس، لیفن اینجلز اور سٹالن وغیرہ کے نظریات کو بڑی اچھی طرح سے پڑھا۔ان کی اصل کتابوں گہرا مطالعہ کیا۔کارل مارکس کی ایک کتاب Das Capital (دس لیپیٹل ) بڑی مشہور ہے۔اسے میں نے دو تین دفعہ پڑھا ہے۔میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ ان کے نظریات قرآن کریم کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔اب نئے حالات میں جب چین ایک عالمی طاقت بن کرا بھرا تو چین کے نظریات کو بھی پڑھنا پڑا۔چنانچہ ان کے خیالات اور نظریات میں یہ بات نظر آئی کہ مارکس اور لینن کے بعض اصول ایسے ہیں جن کی چین نے ایسی