مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 331 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 331

دد مشعل راه راه جلد دوم فرموده ۱۹۷۲ء 331 خود کوشش کرے اور ہمت سے کام لے۔وہ جتنی زیادہ کوشش کرے گا اور ہمت سے کام لے گا اتنی زیادہ ان سے خدمت لیتا رہے گا۔جس رنگ کی وہ کوشش کرے گا اس رنگ کی ان سے خدمت لے گا۔اس سے ہم اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ انسان اپنے اندر کوئی ایسی خوبی نہیں رکھتا تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے پیار کے جلووں اور اس کی آسمانی ہدایت کے بغیر صحیح رنگ میں مخلوق سے دوسری قسم کی خدمت لے سکے۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے اپنے پیار کا ایک نہایت حسین جلوہ انسان کو یہ دکھایا کہ انسان کو بھٹکنے اور بے راہ رو ہونے سے بچانے کے لئے سلسلہ انبیاء کا ایک تسلسل شروع کر دیا۔اور اس میں ایک چیز یہ بھی رکھی کہ انسان جو اشرف المخلوقات ہے جس پر روحانی طور پر حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی کامل شریعت کا بار ڈالا جانے والا تھا اور آپ کے حسن و احسان کو دیکھنے جانچنے اور فائدہ اٹھانے کے لئے جس روحانی طاقت کی ضرورت تھی اس کے لئے انسان کو تیار کیا جائے۔گویا بعثت انبیاء کی ایک غرض یہ ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر قیامت تک کسی وقت انسان بہک نہ جائے۔اور کائنات کی مختلف اشیاء سے صحیح معنوں میں خدمت لے اور سلسلہ انبیاء کے تسلسل میں ایک شاہراہ جو کی تھی وہ یھی کہ انسان کو حضرت محمد رسول اللہ کی شریعت کے قبول کرنے کے قابل بنایا جائے تبھی انسان بے راہ روی سے محفوظ ہوسکتا ہے۔یہ دونوں سلسلے ساتھ ساتھ چل رہے ہیں۔مقصد ایک ہی ہے۔لیکن دو شکلوں میں آ جاتا ہے۔آنحضرت ﷺ کا وجو د سب سے زیادہ منور ہے۔آپ صاحب حسن و احسان ہیں۔آپ کی لائی ہوئی شریعت سب سے زیادہ کامل اور مکمل ہدایت نامہ پر مشتمل ہے۔یعنی آنحضرت مه خود منور اور صاحب حسن احسان اور آپ کی شریعت کامل اور مکمل ہے۔اور یہی مقام ختم نبوت ہے۔اور ہم سمجھتے ہیں کہ ہمارے علاوہ آج صحیح معنی میں شاید کوئی خاتم الانبیاء کی حقیقت کو سجھتا ہو۔تاہم اس بات سے ہم انکار نہیں کر سکتے کہ ہوسکتا ہے کوئی صلى الله چھپا ہوا دماغ ہو جو اس حقیقت کے سمجھنے میں بڑا قریب ہو۔ہم اس بات پر بھی ایمان لاتے ہیں کہ قرآن کریم کی شریعت کامل اور مکمل شریعت ہے۔اس کی کوئی آیت اس کا کوئی لفظ اس کا کوئی حرف حتی کہ اس کا کوئی شععہ منسوخ نہیں ہو سکتا اور نہ بدل سکتا ہے اور نہ آج تک بدلا ہے۔یہ ایک کامل کتاب ہے اور خدا کی حفاظت میں ہے۔پہلی سب کتب بدل گئیں۔ایک دفعہ میں نے ایک پادری کو ایک پیغام بھجوایا۔جس آدمی کو میں نے بھیجا تھا اسے میں نے کہا تم اپنی طرف سے بغیر کسی دلیل دیئے یہ کہنا کہ تم اس بات سے انکار نہیں کر سکتے کہ بائیل محرف و مبدل ہو چکی ہے۔چنانچہ پادری پندرہ بیس منٹ کی بحث کے بعد کہنے لگا تم سچ کہتے ہو ہم انکار نہیں کر سکتے۔لیکن ہر مسلمان انکار کر سکتا ہے۔اور اس انکار کو علی وجہ البصیرت بیان کر سکتا ہے اور دلائل کے ساتھ ثابت کر سکتا ہے ہے کہ قرآن کریم اپنی اصلی اور ازلی شکل میں جیسا کہ پہلے تھا اب بھی موجود ہے۔کیونکہ یہ خدا تعالیٰ کی حفاظت میں ہے۔دوسرے یہ ایک عجیب چھوٹی سی کتاب ہے۔پہلے انبیاء کی کتب کے مقابلہ میں بھی چھوٹی ہے اور آج کل کے جو بڑے بڑے پھنے خان فلاسفر اور سیاسی راہنما اور مدبر سمجھے جاتے ہیں مارکس وغیرہ ان کی کتب کے مقابلہ