مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 330 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 330

330 فرموده ۱۹۷۲ء دو مشعل راه جلد دوم نے جو کارخانہ حیات قائم کیا ہے اس کو برحق ثابت کرنے کے لئے ضروری ہے۔ورنہ ہر چیز باطل ٹھہرتی ہے۔پس ہم آخرت پر ایمان لاتے ہیں ہم اسلام کو مانتے ہیں۔ہم قرآن کریم پر ایمان لاتے ہیں ہم حضرت محمد مصطفی میت و کوحقیقی معنوں میں اور بچے طور پر خاتم الانبیاء مانتے ہیں۔ہم خدا تعالیٰ کی توحید پر قائم ہیں۔ہم نے اس کی توحید کا جھنڈا اپنے دونوں ہاتھوں کے ساتھ اور اپنی روح کی ساری قوتوں کے ساتھ پکڑا ہوا ہے۔ہم ایک لحظہ کے لئے بھی خدا تعالٰی سے دوری کو پسند نہیں کرتے۔کبھی بشری کمزوری لاحق ہو یا غفلت ہو جائے تو ہم تو بہ اور استغفار کی چیخوں کے ساتھ واپس اس کی طرف لوٹتے ہیں اور اس سے امید رکھتے ہیں کہ وہ ہماری لغزشوں کو معاف کر دے گا اور ہماری غفلتوں کو بھول جائے گا اور ہماری گناہوں کی پردہ پوشی کرے گا اور اپنی مغفرت کی چادر ان پر ڈال دے گا۔پھر وہ ہمیں ویسا ہی بنا دے گا۔جیسا کہ ہم اس کے فضلوں اور رحمتوں کے سایہ تلے اس کے پیارے مشرف تھے یا اگر نہیں تھے تو اس کے پیارے بننا چاہتے تھے۔غرض یہ ہمارے بنیادی عقائد ہیں۔میرا تو خیال تھا کہ شاید بیماری کی وجہ سے دس پندرہ منٹ ہی بول سکوں گا اور اس مضمون کا مختصر عنوان ہی بتا سکوں گا۔اللہ تعالیٰ نے توفیق عطا فرمائی۔میں بولتا چلا گیا آپ ہی سے اکثر بچے میری باتوں کو سمجھنے کی کوشش کر رہے تھے۔ہر ایک خدا کے فضل سے اپنی استطاعت کے مطابق سمجھا ہو گا۔میں نے سوچا تھا کہ اس مضمون کا عنوان مختصر بیان کروں گا اور ان کا خلاصہ تحفتا آپ کو کل پچھلے پہر دے دوں گا۔میں نے اس وقت چند بنیادی عقائد کو تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے۔میں ان کو خلاصہ پھر دہرا دیتا ہوں۔ہمارا اللہ تعالیٰ پر ایمان ہے۔اس اللہ پر جس کو قرآن کریم نے صفات حسنہ کا ملہ کے ساتھ پیش کیا۔اللہ تعالیٰ کی قدرتوں پر بھی ہمارا ایمان ہے۔اس نے جو کچھ پیدا کیا ہے۔انسانی خدمت کے لئے پیدا کیا ہے۔ہمیں یہ یقین ہے کہ یہ خدمت عقلاً دو قسم کی ہے۔ایک وہ جو ہماری خواہش کوشش اور محنت کی محتاج نہیں۔نہ اس کی اسے کوئی ضرورت ہے۔ہم چاہیں نہ چاہیں کچھ چیزیں یا اکثر چیزوں کے بہت سے حصے انسانی خدمت میں لگے ہوئے ہیں۔دوسری خدمت ایسی ہے جس کے لئے انسانی کوشش کی ضرورت ہے۔اور یہ کوشش دنیوی فوائد کے لئے بھی ہے۔اور روحانی فوائد کے لئے بھی۔لیکن انسانی قوی کا جو سلسلہ ہے اس میں ہر چیز بلا واسطہ یا بالواسطہ روحانی تربیت ہی کے لئے مامور ہے۔بظاہر نظر آتا ہے کہ روٹی نے پیٹ پالا یا دنیوی پریشانیوں سے دولت نے نجات دلائی لیکن اندر سے یہ نظر آیا۔كادالفقران يكون كفراً اگر یہ دولت نہ ہوتی تو بہت سے انسان کفر کی راہوں کو اختیار کرتے اور توحید کی راہوں کو چھوڑ دیتے۔غرض دوسری قسم کی خدمت کے لئے انسانی کوشش کی ضرورت ہے۔تاہم یہ بھی بالآ خر روحانی فوائد پر منتج ہوتی ہے۔یوں تو اس کائنات کی ہر چیز انسان کی خدمت کے لئے پیدا کی گئی ہے۔تاہم ان سے خدمت لینے کی ایک راہ یا ان کے اندر خدمت کرنے کی جو طاقت ہے اس سے فائدہ اُٹھانے کا ایک طریق یہ ہے کہ انسان