مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 305 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 305

305 فرموده ۱۹۷۱ء د و مشعل راه جلد دوم لذت نہیں پیدا ہوگی۔بسم اللہ پڑھ کر ذبح کرنا گوشت میں لذت پیدا کرنے کیلئے نہیں۔لیکن بسم اللہ پڑھنے سے آپ کے ذہن اور آپ کی روح میں سرور پیدا ہوتا ہے اور اس میں آپ کو خدمت والے مقام کی یاد دہانی کرائی گئی ہے کہ ایک مرغی یا ایک بطخ ہے تو بظاہر ایک حقیر چیز۔مگر اس کی بھی حرمت کا تم نے خیال رکھنا ہے اور خدمت کرنی ہے۔فرمایا جانور کو بھوکا نہیں رکھنا۔پیاسا نہیں رکھنا ورنہ اللہ تعالیٰ ناراض ہو جائے گا۔لیکن اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب میں کہوں کہ تمہاری صحت کے قیام کیلئے میں نے اسے تمہارے لئے تسخیر کیا ہے کہ جس حد تک تمہیں گوشت کی ضرورت ہے میرا نام لو اور ذبح کر کے کھا لوتاکہ تمہیں یادر ہے کہ میرے نام سے تمہیں اختیار ملتا ہے ورنہ نہیں ملتا۔فرمایا اتنے جانور ذبح نہ کرو یا اتنے جانور قتال نہ کرو جو تمہیں ضائع کرنے پڑیں اور ان کا گوشت انسان کے استعمال میں نہ آئے یعنی اسلام اتنی باریکیوں میں گیا ہے اور ان میں یہی بتایا کہ انسان کا مقام ہی یہ ہے کہ اس کا سر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پیارے قدموں میں پڑا رہے۔آپ کے قدموں کو انسان چھوئے اور ان سے اپنا سر رگڑتا رہے تا کہ اسے اپنا اصل مقام مل جائے۔اور پس اللہ تعالیٰ نے خدمت کا مقام دے کر احسان عظیم فرمایا مجھ پر بھی اور آپ پر بھی اور بشارت دی ارفع مقام کی اور یہ بشارت ساری امت کے لئے ہے۔یہ نہیں فرمایا کہ میں نے موسیٰ علیہ السلام کو جتنا دیا اس سے زیادہ دوں گا بلکہ فرمایا کہ جتنی نیکی ، بڑائی اور بزرگی کسی کے دماغ میں آسکتی ہے اس سے بھی زیادہ دوں گا۔تم خیر امت ہو اس لئے میں تمہیں اپنے اس معیار کے مطابق دوں گا۔جب خیر کا معیار مقرر کرنے کا کام اللہ تعالیٰ نے انسان کے سپرد نہیں فرمایا تو وہ کہاں سے مقرر کرے گا۔قرآن کریم نے فرمایا ہے كُنتُمْ خَيْر أُمَّة اس میں جو خیر ہے اس کی تعیین ہم نے کرنی ہے؟ تم نے نہیں کرنی۔خیر کیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ جس کو میں خیر سمجھتا ہوں وہ خیر ہے اور میں تمہیں ایسی امت بنانا چاہتا ہوں جو خیر ہو۔جس کو اللہ تعالیٰ خیر یعنی بہترین امت سمجھتا ہو۔انسان کا دماغ وہاں تک کیسے پہنچ سکتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے بڑا ہی فضل کیا کہ خدمت کا مقام دیا اور بڑا ہی فضل کیا کہ اتنی بڑی بشارت دے دی۔یعنی خیر امت بنادیا اور خیر امت ہے ہی وہ امت کہ جو اس پاک بزرگ ہستی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں پڑی ہو جس کا مقام عرش رب العلمین ہے کیونکہ اس سے بہتر تو کوئی اور چیز نہیں ہے۔عام لوگ اس کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔زیادہ پڑھے ہوئے لوگ بھی تصور میں نہیں لا سکتے۔کیونکہ انسانی عقل وہاں تک نہیں پہنچ سکتی۔لیکن ہماری عقل میں اتنا آتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے ہم سے جو وعدہ کیا ہے وہ بڑا عظیم ہے اور یہ خیر امت ہونے کا وعدہ ہے۔اور اتنا بھی ہمیں سمجھ آتا ہے کہ اس بشارت کے حصول کے لئے جو ذمہ داری ہم پر عائد کی گئی ہے وہ بھی بہت عظیم ہے۔پہلی کسی امت پر وہ ذمہ داری عائد نہیں کی گئی۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم کو یہ نہیں کہا گیا تھا کہ جو یہودی نہیں ہیں۔ان سے بھی پیار کرو۔بائیبل ایسی آیات سے بھری پڑی ہے۔جن میں یہ کہا گیا ہے کہ مثلاً یہود سے سود نہ لے یعنی اپنے بھائی سے سود نہ لے لیکن جو یہودی نہیں ہے اس سے سود لے۔اسی قسم کی اور بہت ساری آیتیں ہیں جن میں جانے کی اس وقت ضرورت نہیں ہے۔