مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 300
فرموده ۱۹۷۱ء 300 د و مشعل راه ل راه جلد دوم اندر لالچ پیدا ہو جاتا ہے وہ نا جائز ذرائع سے مال اکٹھا کرنا شروع کر دیتے ہیں۔رعب ڈالنے کیلئے ظلم کرنا شروع کر دیتے ہیں۔حق دار کو حق ادا کرنے کیلئے تیار نہیں ہوتے۔انسان کو اپنا بھائی نہیں سمجھتے اور اس طرح بجائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک حاکم اور آقا پر جوذمہ داریاں ڈالی ہیں ان کو ادا کریں، وہ اپنے نفس کی پرستش میں لگے رہتے ہیں اور خدا تعالیٰ کی نگاہ میں بھی دھتکارے جاتے ہیں۔وہ تو دھتکارے ہی جاتے ہیں۔لیکن انسان کی نگاہ بھی انہیں حقیقی عزت کی نگاہ سے نہیں دیکھتی۔میں نے کہا ہے کہ امریکہ میں بھی یہی ہو رہا ہے۔یہ فقرہ کہتے ہوئے مجھے ایک مثال یاد آ گئی۔ایک امریکن بڑا امیر تھا وہ امریکہ کی ایک ریاست میں بڑا مقبول تھا کیونکہ وہ غریبوں کی مدد کرتا تھا۔عوام سے پیار کرتا تھا۔سب کو گلے لگاتا تھا لیکن سیاست میں حصہ نہیں لیتا تھا۔انتخاب کے وقت اس کے دوست ہمیشہ اسے کہتے کہ تم گورنر کے عہدہ کے لئے کھڑے ہو جاؤ۔اول تو کوئی تمہارے مقابلے میں کھڑا نہیں ہوگا اور اگر کھڑا ہوا تو اس کے جیتنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔کیونکہ تم قوم کی خدمت کرتے ہو اور ان میں بہت مقبول ہو وہ آگے سے کہتا کہ نہیں میں کھڑا ہونا نہیں چاہتا اس لئے کہ: Power corrupts you use it۔Abuse it and then lose it۔کہ جب کسی کو اقتدار ملتا ہے تو وہ انسان کے ذہن کو اور اس کی روح کو بددیانت بنا دیتا ہے۔تم اس کو استعمال کرتے ہو لیکن صحیح استعمال نہیں کرتے اس کا غلط استعمال کرتے ہو اور پھر اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ تمہارے ہاتھ سے طاقت چھین لی جاتی ہے۔چنانچہ امریکہ کا ہی حال ہے۔کبھی کوئی پارٹی اوپر آ جاتی ہے اور کبھی کوئی کبھی دنیا کے کسی حصے میں ظلم ہورہا ہوتا ہے اور کبھی کسی حصے میں ظلم ہورہا ہوتا ہے۔انہوں نے سینکڑوں سال تک بعض لوگوں پر اس لئے ظلم کیا کہ وہ رنگ دار تھے۔وہ سمجھتے تھے کہ ہم چونکہ بے رنگ ہیں اس لئے ہمارا مقام اونچا ہے۔چنانچہ وہاں بڑا ہنگامہ رہا اور بڑی لڑائیاں ہوتی رہیں اور ابھی تک وہ لڑائیاں جاری ہیں گو اس شدت کی اور اس شکل کی تو نہیں۔لیکن وہ جنگ ابھی تک جاری ہے۔سفید فام یا جن کو میں بے رنگ کہا کرتا ہوں۔انہوں نے سمجھا کہ ہمارا یہ حق ہے کہ ہم دوسرے انسان پر ظلم ڈھائیں اور ان سے پیار نہ کریں۔نفرت اور حقارت کی نگاہ سے انہیں دیکھیں یہ دنیا داروں کا حال ہے۔جو دیندار ہیں مثلاً حضرت موسیٰ علیہ السلام کو لے لو۔اللہ تعالیٰ نے ان کی قوم کو طاقت دی اور جیسا کہ قرآن کریم نے کہا ہے اللہ تعالیٰ نے ان کے اندر بادشاہت کا سلسلہ بھی جاری کیا اور ان میں انبیاء کا ایک سلسلہ بھی جاری ہوا۔حضرت مسیح موعود علیہ صلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ ایک ایک وقت میں سینکڑوں ہزاروں انبیاء پیدا ہو جاتے تھے کیونکہ یہ قوم یعنی بنی اسرائیل تربیت کی بہت محتاج تھی۔ایک وقت تک وہ ٹھیک رہے لیکن پھر ایک وقت ایسا آیا جب انہوں نے اللہ تعالیٰ کو ناراض کر لیا اور ان کو سنبھالنے والے باقی نہ رہے اور انبیاء پیدا نہیں کئے گئے۔چنانچہ اتنا بڑا ظلم کرنے والی قوم دنیا میں اور کوئی نہیں ہے۔آسمان سے یہ گری ہے۔قرآن کریم نے کہا ہے کہ ان کے اوپر زمین اور آسمان کی لعنت ہے (سوائے اس کے کہ بدقسمتی سے اس سے زیادہ