مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 299
299 فرموده ۱۹۷۱ء د و مشعل راه جلد دوم دد بہر حال حکومت نے قوم کو اپنے اعتماد میں لے کر ان سے کہا تھا کہ ہر اس قول اور ہر اس فعل سے بچیں جس کے نتیجہ میں پاکستان میں کمزوری پیدا ہو اور دشمن کے لئے وہ خوشی کا موجب بن جائے یاوہ بات ان کے منصوبوں میں مدد پینے والی ہو۔مارشل لا اتھارٹی کوجو باتیں معلوم ہوئی ہیں، وہ ہمیں تو معلوم نہیں جس حد تک مناسب سمجھا اور مصلحت سمجھی اس کے مطابق انہوں نے اصولی طور پر قوم کو متوجہ کر دیا ہے۔اس سلسلے میں میں جماعت احمدیہ کو عموماً اور اپنے عزیز نو جوان بچوں اور بھائیوں کو خصوصاً اس طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ تمہاری ماں یعنی مادر وطن آج تمہیں بلا رہی ہے اور وہ تم سے قربانی چاہتی ہے پاکستان کی سالمیت اور اس کی حفاظت کے لئے ہماری طاقتوں کا آخری جز و خرچ ہو جانا چاہئے۔ہمارے ذہن ہر قربانی کے لئے تیار رہنے چاہئیں اور ہمارا عمل ہمارے ذہنی فیصلوں کی ہر وقت تائید کرنے والا ہونا چاہیئے۔اللہ تعالیٰ بڑے فضل کرنے والا ہے پچھلے دنوں غالباً مشرقی پاکستان ہی میں ہماری ایک احمدی بہن نے خواب دیکھی اور مجھے بھی لکھی۔وہ کہتی ہیں کہ میں نے خواب میں دیکھا حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ تشریف لائے ہیں اور میں نے (یعنی اس بنگالی بہن نے ) کہا کہ ۶۵ ء کی جنگ میں آپ ہمارے درمیان تھے۔اللہ تعالیٰ نے فضل کیا جماعت کی دعائیں قبول فرما ئیں خدا تعالیٰ نے پاکستان کو فتح دی اور ہندوستان اپنے بد منصوبوں میں ناکام ہوا۔اب پھر جنگ کے آثار ہیں اب کیا ہوگا۔مطلب یہ تھا کہ آپ تو وصال کر گئے آپ نے بڑے جوش میں آ کر کہا کہ ہندوستان کی حکومت پاکستان کی ایک چپہ زمین بھی نہیں لے سکتی۔( خواب تعبیر طلب ہوتی ہے۔خدا جانے کس شکل میں پوری ہو) یہ تو ایک بشارت ہے اور جتنی بڑی بشارت ہوتی ہے۔وہ اتنی ہی بڑی ذمہ داری انسان پر ڈالتی ہے۔اسی لئے میری توجہ اس طرف پھری کہ میں آپ کو یہ کہوں کہ اگر مادر وطن نے ہم سے قربانی مانگی تو خدا کرے کہ سارے پاکستانی ہی اس آواز پر لبیک کہتے ہوئے ملک کی حفاظت کیلئے قربانی دینے کیلئے تیار ہو جائیں۔لیکن جو احمدی ہے اس نے بہر حال کسی سے پیچھے نہیں رہنا صرف یہی نہیں کہ نسبتا پیچھے نہیں رہا بلکہ دوسروں کی طرف دیکھے بغیر قربانیوں میں آگے سے آگے ہی بڑھتے چلے جانا ہے۔انشاء اللہ آپ کے سر خدا کے حضور شکر کے طور پر زیادہ سے زیادہ جھک جانے چاہئیں اور دنیا کو خوش ہونا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ فضل کیا کہ آپ کو خدمت اسلام اور خدمت انسان کے مقام پر کھڑا کر دیا یہ اللہ تعالیٰ کا بڑا احسان ہے۔جو لوگ آقا ہوتے ہیں ان میں سے ایک حصہ تو وہ ہوتا ہے جو اپنے زور بازو سے جنگ کے نتیجہ میں یا اقتدار کے لحاظ سے یا دولت کی وجہ سے خود آقا بن جاتے ہیں۔دوسرے وہ آقا ہوتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ آقا بنا دیتا ہے۔پس جنہیں اللہ تعالیٰ آقا بناتا ہے وہ بھی اور جو خود آقا بن جاتے ہیں وہ بھی بڑے نازک مقام پر ہوتے ہیں۔یہ جو خدا کے فضل اور اس کی مدد سے بڑے ہو کر پھر اپنی بداعمالیوں کے نتیجہ میں نیچے گرتے ہیں ان کا تو کچھ باقی نہیں رہتا اور جو اس دنیوی نظام کے ماتحت خود آقا بن جاتے ہیں ان کا حشر ہماری آنکھوں نے دیکھا ہے۔ساری دنیا میں انگلستان میں بھی اور امریکہ میں بھی یہی ہو رہا ہے۔دیگر ممالک میں بھی یہی ہو رہا ہے کہ ان کے