مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 287
287 فرموده ۱۹۷۱ء د و مشعل راه جلد دوم دد دی کہ فکر نہ کرو تمہارے گھٹنے ٹھیک ہو جا ئینگے۔اس دن سے مجھے بالکل اطمینان ہے اور ایک لمحہ کے لئے بھی کوئی فکر نہیں۔کئی لوگ منہ بنا کر کہہ دیتے ہیں کہ آپ جلدی مسجد میں بھی آئیں۔میں جلدی کیسے آؤں نہ میرا آنا میرے اختیار میں اور نہ رکنا میرے اختیار میں ہے۔یہ اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔اس نے کہا کہ اس حالت میں) مسجد نہ جاؤ گھر میں نماز پڑھ لو اللہ تعالیٰ فضل فرمائے گا گھٹنے ٹھیک ہو جائیں گے تو آپ کے پاس مسجد میں آجاؤں گا۔آزمائش اور تکلیف میں ابھی حکمتیں ہر آزمائش یا تکلیف ہو قضا کے نتیجہ میں پیدا ہوتی ہے اس میں بہت ساری حکمتیں ہوتی ہیں۔اب میں جب میں گھوڑے سے گرا تو ریڑھ کی دو ہڈیوں پر ضرب آئی اس کو Compression Fracture( کمپریشن ریکلچر ) کہتے ہیں یعنی ریڑھ کی ہڈیاں دب گئی تھیں۔ریڑھ کی ہڈیوں سے سارے nerves ( نروز ) نکلتے ہیں یہ گویا نروز سنٹر ہے۔ریڑھ کا ایک منکا ایسا بھی ہے کہ اگر وہاں زیادہ ضرب آ جائے تو نچلا دھڑ ہمیشہ کے لئے مفلوج ہو جاتا ہے۔اب ظاہری حالات میں میں بیمار پڑا ہوا تھا تو کئی منافق احمق اور کمزور ایمان والوں نے سمجھا کہ اب یہ بچے گا نہیں۔چنانچہ اس خیال سے انہوں نے کچھ ایسی شوخیاں دکھائیں کہ ان میں سے دو چار کو خشی کر کے جس کے وہ حقدار تھے ان کو خاموش کرنا پڑا۔وہ سمجھتے تھے کہ (معاذ اللہ ) اب تو یہ گیا۔اب ہم شوخیاں دکھائیں میں یہ سوچ کر مسکرایا کرتا تھا کہ یہ بیوقوف نہیں۔زندگی اور موت میرے اختیار میں نہیں لیکن جب تک میں زندہ ہوں خدا تعالیٰ نے اپنے فضل سے مجھے فرمایا ہے کہ تو میرا خلیفہ ہے۔يداؤد انا جعلنك خليفة في الارض (ص ۲۷) داؤڈ کی طرح میں بھی تمہارے ساتھ سلوک کیا کروں گا۔کبھی معاف کر دیا کروں گا۔کبھی ٹھیک کیا کروں گا سختی کے ساتھ۔چنانچہ پھر ان کو سزا دینی پڑی۔لیکن جب ایسی باتیں میرے سامنے آتیں تو میں مسکرایا کرتا تھا کہ یہ اپنے آپ کو خدا سمجھتے ہیں اور اس خدا کو بھول گئے جو محمد ﷺ پر جلوہ گر ہوا اور اس جلوہ کے طفیل ہم نے مہدی موعود کے لائے ہوئے جلوے دیکھے۔منافقین اور جماعت کا فرض پس آپ لوگوں کو بھی چوکنا رہنا چاہئیے۔بہت سے ایسے چھپے ہوئے منافق تھے جو بھرنا شروع ہوئے۔اکثر ٹھیک ہو گئے اور باقی انشاء اللہ ٹھیک ہو جائیں گے۔میں نے شروع میں نرمی کی حالانکہ ان لوگوں کے دلوں میں بہت گند تھا۔نفاق کے بعض ایسے پہلو تھے جن کو میں نے بیان نہیں کیا خدا تعالیٰ نے بہت تو خود ہی ٹھیک کر دئے اس واسطے شاید بیان کرنے کی ضرورت نہ پڑے میں نے یہ سوچا کہ میرا کام تربیت کرنا اور پیار کرنا ہے