مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 286
فرموده ۱۹۷۱ء 286 د و مشعل را تل راه جلد دوم جو بادشاہ ہے وہ تو خلیفہ کو بادشاہ ہی سمجھتے تھے ) وہ بھی پاگل ہے اُس نے اپنی فوج کو ایک آدمی کی کمک بھیج دی ہے مگر حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے ان کو یہ سبق دیا کہ اللہ جس پر ہم ایمان لائے اور جس کے قدموں میں ہم نے اپنا سر رکھا اور جس کے دامن کو ہم نے پکڑا اور دعا کی کہ اے خدا! ہمیں بے سہارا نہ چھوڑ نا وہ تعداد کو نہیں دیکھا کرتا۔ایک آدمی بھی تمہارے سامنے آئے گا تو وہ تمہیں تباہ کر دے گا کیونکہ یہ اس کا منشاء ہے کہ اسلام غالب ہو۔پس ربک فکبر میں خدا تعالیٰ کی صفت کو دُنیا کے سامنے پیش کر کے غلبہ اسلام کے سامان پیدا کئے گئے ہیں۔چوتھی صفت جماعتی تربیت پھر فرمایا: و ثیابک فطھر۔اس کے ایک معنی صفائی یعنی اپنے آپ کو صاف رکھنے کے ہیں۔مجھے افسوس ہے کہ ہم ابھی تک ربوہ میں بھی صفائی کا وہ معیار قائم نہیں کر سکے جو ہماری طرح ہی غریب مدینہ میں بسنے والے قائم کر چکے تھے میں نے یہ الفاظ کہ وہ غریب تھے جان کر کہے ہیں کہ وہ غریب نہیں تھے جو اپنے پیٹ پر پتھر باندھ کر پھرا کرتے تھے ؟ تمہیں خدا تعالیٰ روکھی روٹی سہی مگر دے تو رہا ہے ان کو تو ایسے حالات میں سے گزرنا پڑا کہ روکھی روٹی بھی بعض دفعہ نہیں ملی لیکن اُن میں صفائی تھی اور اس پر بڑا زور دیا جارہا تھا۔لیکن اس وقت در اصل جو ضروری چیز ہے وہ ہے تربیت۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے ثیابک مظھر کے ایک معنی (اور اسی سے ملتے جلتے بعض دوسروں نے یہ کئے ہیں کہ اے رسول ! جماعت کی تربیت کر۔تیرے ارد گر دلوگ جمع ہو گئے ہیں اس لئے تو ان کی تربیت کر۔صفات باری تعالیٰ اور تربیت ربک فکبر کا تعلق انذار کے ساتھ ہے یعنی غیر مسلم کو صداقت اسلام سمجھانے کیلئے بھی صفات باری کا بیان ضروری ہے اور جماعت کی تربیت کے لئے بھی صفات باری کا بیان کرنا ضروری ہے۔جس شخص نے خدا تعالیٰ کی قدرت کا نظارہ دیکھا ہے اس کو شیطان کبھی نہیں بہکائے گا۔اب جو بچے ہیں ، اگر اُن کے ماں باپ خدا تعالیٰ کی وہ قدرتیں جنہیں وہ اپنے ماحول میں دیکھتے ہیں اپنے بچوں کے کان میں نہ ڈالیں اور وہ باتیں بچوں تک نہ پہنچیں۔تو شیطان سمجھے گا کہ یہ خدا تعالیٰ کی صفات کو پہچانتے نہیں۔میرا وار شاید کامیاب ہو جائے۔پھر اگر اللہ تعالیٰ فضل کرے تو شیطان ناکام ہی ہو لیکن ایسے ماں باپ نے اپنی طرف سے تو شیطان کو کامیاب کرنے کے سامان پیدا کر دیئے۔پس غیروں تک اسلام کی صداقت پہنچانے کے لئے اور اپنوں کی تربیت کے لئے اور انہیں اسلام پر قائم رکھنے اور ان کے اندر جذبہ اور ایثار کو پیدا کرنے کے لئے جو بنیادی چیز ہے وہ الہی صفات کا بیان کرنا ہے۔اللہ تعالی کی بڑی شان ہے جیسا کہ میں نے ابھی بتایا ہے میرے جیسے ایک کمزور اور عاجز انسان کو خدا تعالیٰ نے مجھے تسلی