مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 285
285 فرمودہ ۱۹۷۱ء د و مشعل راه جلد دوم دد مگر یہ جنون ہے کہ نہیں۔حضرت ابو بکر کے توکل کا مقام حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کا اپنے رب پر تو کل کا یہ حال تھا کہ حضرت خالد بن ولید نے سوچا کہ خلیفہ وقت کو حالات کا علم ہونا چاہئیے چنانچہ انہوں نے رپورٹ کی (عملا یہ ہوا کہ پہلی لڑائی ہوئی اس میں ساٹھ ہزار ایرانی مقابلہ پر تھے، پھر دوسری لڑائی ہوئی علی ہذا القیاس ہر جنگ جو ہے کوئی دوسرے دن کوئی تیسرے دن کوئی ساتھ میں دن اور کوئی دسویں دن لڑی گئی لیکن ہر جنگ ایرانیوں کی تازہ دم فوج اور نئے جرنیلوں کے ساتھ لڑی گئی اور بہت سارے جرنیل بھی مارے گئے یعنی کمانڈر انچیف بھی اور ان کے ماتحت افسر بھی جن میں سے بعض انفرادی مبارزہ کے لئے آئے تھے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے مارے جاتے تھے ) غرض حضرت خالد بن ولید نے رپورٹ کی کہ یہ حالات ہیں۔ہر دفعہ تازہ دم فوج جس کی تعداد ہم سے کئی گنا زیادہ ہوگی۔میرے مقابلے پر آئے گی۔میرے پاس اٹھارہ ہزار سپاہی ہیں یہی لڑتے جائیں گے مگر کم ہوتے جائیں گے کیونکہ بہر حال شہید ہورہے تھے گو تھوڑے شہید ہوتے تھے مگر ہو تو رہے تھے۔ہر دوسری جنگ میں پہلی جنگ سے کم آدمی شامل ہوں گے کیونکہ کچھ زخمی ہوں گے۔کچھ شہید ہوں گے مگر حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی یہ شان کہ مسجد میں سب کے سامنے ایک آدمی کو بلایا اور فرمایا کہ خالد بن ولید نے کمک مانگی ہے تم چلے جاؤ۔چنانچہ ایک آدمی کمک بھیج دی۔کتنا تو کل تھا آپ کا اللہ تعالیٰ پر صحابہ کرام جن میں اس وقت حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی شامل تھے۔( بعض روشنیاں اللہ تعالیٰ خلافت کے بعد عطا کرتا ہے پہلے تو جس طرح عام صحابہ تھے اُن میں حضرت عمر بھی ایک تھے ) انہوں نے عرض کیا یا حضرت! یہ آپ کیا کر رہے ہیں۔نازک حالات ہیں۔قاصد دن رات دوڑتا ہوا یہاں کمک کے لئے پہنچا ہے آپ نے صرف ایک آدمی کو بطور کمک کے بھیج دیا ہے آگے سے جواب ملا کہ جس فوج میں اس (ایک آدمی ) جیسے جاں نثار ہوں وہ شکست نہیں کھایا کرتی۔خدا تعالیٰ نے اپنے مقرر کردہ خلیفہ کی بات اس طرح پوری کی ( میں تفصیل میں نہیں جاؤں گا) کہ ایک موقع پر حضرت خالد بن ولید دشمن کی چال میں پھنس گئے تھے اور قریب تھا کہ شہید کر دئیے جاتے کیونکہ ایک جرنیل کے ساتھ ان کی DUEL ڈول یعنی دو آدمیوں کی باہم لڑائی کے موقع پر اس نے اپنے گرد آٹھ دس آدمی چھپائے ہوئے تھے وہی آدمی جو کمک کے طور پر آیا تھا۔اکیلا گیا اور اُن چھپے ہوئے آدمیوں کو قتل کر کے واپس آ گیا اور خالد اور جرنیل کی لڑائی میں دخل نہیں دیا۔مسلمان کی عجیب شان تھی۔پس حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کا یہ تو گل ربک فکبر پر عمل کرنے کا نتیجہ ہے آپ نے اللہ تعالیٰ پر توکل کرتے ہوئے کسری کے خلاف لڑنے والی فوج کو ایک آدمی کی کمک بھیج دی۔آخران (ایرانیوں) کے پاس بھی تو یہ بات پہنچی ہوگی وہ کہتے ہوں گے کہ یہ لوگ پاگل ہیں۔ایک تو ہمیں مٹانے کے لئے آئے ہیں۔دوسرے ان کو