مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 261 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 261

261 فرموده ۱۹۷۰ء دد د و مشعل راه جلد دوم ہیں جنہوں آپ سے انتہائی محبت کی اور اللہ تعالیٰ نے اس محبت کے نتیجہ میں اور ان کی استعدادوں اور زمانے کی ضرورت کو دیکھتے ہوئے انکو ایک مامور کا نظام عطا کیا اور ان کے سپرد یہ کام کیا کہ جو لوگ مجھے بھول گئے ہیں میرا وجود انہیں یاد کرواؤ۔ان کو بتاؤ کہ یہ اللہ ہے اور یہ اس کی صفات ہیں۔وہ قادر مطلق ہے کوئی چیز اس کے علم سے با ہر نہیں اور کوئی چیز اس کے تصرف سے باہر نہیں۔وہ تو چاہتا ہے۔ہر ایک پر اس کی گرفت ہے کوئی شخص اس سے یہ پوچھ نہیں سکتا کہ تو نے ایسا کیوں کیا ہے؟ کیونکہ وہ مالک ہے۔اگر آپ کی جیب میں چند آنے ہوں اور آپ چنے خریدنا چاہیں تو بعض دفعہ ماں باپ ٹوکتے ہیں اور بچہ کہدیتا ہے کہ آپ کو اس سے کیا۔میرے پاس پیسے ہیں میں جہاں مرضی خرچ کروں۔بعض دفعہ وہ غلطی بھی کر رہا ہوتا ہے کیونکہ بہر حال وہ بچہ ہے اور انسان کا بچہ ہے۔اسے بہت ساری چیزوں کا پوری طرح علم نہیں ہوتا اور اپنے مفاد کا پوری طرح احساس بھی نہیں رکھتا لیکن اللہ تعالیٰ کا علم تو ہر چیز پر حاوی ہے کیونکہ اس نے ہر ایک چیز کو پیدا کیا ہے اور وہ ہر چیز کی جان ہے۔وہ ہر چیز کا سہارا ہے۔اس کی منشاء کے بغیر کوئی چیز نہ زندہ رہ سکتی ہے اور نہ قائم رہ سکتی ہے۔غرض ایک تو افراد پر آپ کا احسان ہے۔دوسرے اقوام پر آپ کے احسان ہیں مثلاً حضرت موسیٰ کی امت پر آپ کے احسان ہیں اور شاید یہ بات آپ کو سمجھانا مشکل ہو کیونکہ آپ کے ذہنوں کی نشو ونما ابھی پوری طرح مکمل نہیں ہوئی لیکن جو بعد میں آنے والے ہیں اُن کے اوپر تو آپ کے احسان بڑے واضح ہیں۔یہ آپ بھی بچے ہونے کے باوجود سمجھتے ہیں۔حضرت نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ امت محمدیہ پر میرے احسان خاص طور پر بڑی شان سے ظاہر ہوں گے۔ایک پہلی تین صدیوں میں یعنی جس صدی میں آنحضرت علے آئے اور آپ کے بعد کی دوصدیوں میں اور پھر امت پر تنزل کا ایک زمانہ ہوگا گو اس وقت بھی وہ افراد امت جن پر آپ احسان کر رہے ہوں گے۔اور جو آپ کے احسان کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کے پیار کو حاصل کر رہے ہونگے ان کی تعداد بھی سمندر کے قطروں کی طرح ہوگی۔لیکن بہر حال بحیثیت امت اس زمانہ میں ان کی اپنی غفلتوں اور کوتاہیوں کے نتیجہ میں ایثار اور قربانی کے جذبہ کے فقدان کی وجہ سے انہوں نے اپنے آپ کو آنحضرت ﷺ کے احسانات سے محروم کر لیا تھا اور اس کے وہ خود ذمہ دار ہیں۔آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ پھر پہلا دور امت مسلمہ پر آئے گا۔اللہ تعالیٰ مسلمانوں پر پھر اسی طرح اپنا فضل کرنے لگے گا جس طرح آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں کیا تھا۔آپ نے فرمایا کہ جب میرا محبوب روحانی بیٹا سیح موعود اور مہدی معہود کی شکل میں دنیا کی طرف مبعوث کیا جائے گا اس وقت وہ لوگ جو اس کی جماعت میں داخل ہونگے یا آپ کی جماعت میں داخل ہونے والوں کی اولاد ہونگے ان پر اللہ تعالیٰ کا اسی طرح فضل ہوگا جس طرح صحابہ حضرت نبی اکرم ﷺ اور آپ کے سوسال کے ساتھ جو ملے ہوئے دوسو اور سال تھے ان میں اللہ تعالیٰ کا فضل ہوا۔ہم انہیں تابعین یا تبع تابعین کہتے ہیں لیکن آپ کو ان اصطلاحوں میں الجھنے کی ضرورت نہیں آپ یہ الله