مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 260 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 260

دمشعل راه جلد دوم د را فرموده ۱۹۷ء سید نا حضرت خلیفہ مسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے خدام الاحمدیہ مرکزی کے سالانہ اجتماع کے موقعہ پر مورخہ ۱۷ اکتوبر ۱۹۷۰ اطفال الاحمدیہ سے جو خطاب فرمایا تھا۔اس کا مکمل متن پیش خدمت ہے۔( غیر مطبوعہ ) تشهد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:- 260 اس اجتماع میں آپ کی دلچسپی پہلے سے زیادہ ہے کیونکہ پہلے سے زیادہ مجالس اور اطفال شریک ہوئے ہیں۔لیکن ابھی یہ تسلی بخش شمولیت نہیں۔اس اجتماع میں ہر جماعت احمدیہ کے اطفال کی نمائندگی ضروری ہونی چاہیے اور اسکے لئے عہد یداران کو کوشش کرنی چاہیے۔اس سال میرے لئے جو بہت خوشی کی بات ہے وہ یہ ہے کہ صوبہ سرحد کے اطفال اور خُذ ام نمایاں طور پر اور بڑی کثرت سے شریک ہوئے ہیں۔میں ایبٹ آباد میں کچھ عرصہ رہا تھا۔وہاں کے قائد علاقائی کو میں نے تاکید کی تھی کہ کوئی مجلس ایسی نہ رہے جسکے نمائندے اس اجتماع میں شامل نہ ہوں۔ضلع ہزارہ کے متعلق انکی کوششیں بڑی حد تک کامیاب ہوئی ہیں۔اللہ تعالیٰ انہیں بھی جزائے خیر عطا فرمائے اور انہیں بھی جنہوں نے بڑے شوق اور رغبت سے اس اجتماع میں حصہ لیا ہے۔کل میری طبیعت ضعف کی تکلیف کی وجہ سے کچھ خراب ہوگئی۔اور آج مجھے ابھی لجنات کی طرف تقریر کے لئے جانا ہے۔اگر منتظمین سہولت کے ساتھ اطفال میں میری تقریر کا وقت تیسرے دن صبح رکھ لیا کریں تو میرے لئے شاید زیادہ سہولت رہے بشرطیکہ خدام الاحمدیہ کا اجتماع عصر کے قریب ختم ہوا ہو۔صبح میں یہاں آ سکتا ہوں اور زیادہ وقت دے سکتا ہوں اور شام کو خدام الاحمدیہ میں شمولیت ہو سکتی ہے۔اس وقت تو میں چند منٹ بعض ضروری باتیں آپ سے کہنا چاہتا ہوں۔حضرت نبی اکرم محمد ﷺ نے بنی نوع انسان پر بڑے احسان کئے ہیں اور آپ کے احسانوں کا یہ دریا یا آپ کے احسانوں کی یہ برکت صرف اس زمانہ کے ساتھ تعلق نہیں رکھتی جس میں آپ اُس جسد عنصری کے ساتھ اس دنیا میں موجود رہے بلکہ اس احسان کا تعلق آپ کے افاضہ روحانی ( یا آپ بچوں کو سمجھانے کے لئے یہ کہا جا سکتا ھے کہ ) کے جب تک آپ کے احسانات کا شمار نہیں ہو سکتا یعنی آپ کے احسانات کو گنا نہیں جا سکتا جو انسان کے اوپر ہوتے رہے ہیں اور ہور ہے ہیں اور ہوتے رہیں گے۔حضرت نبی اکرم ﷺ نے خود ہمیں بتایا ہے کہ میرا احسان آدم علیہ السلام پر بھی تھا اور نوح علیہ السلام پر بھی تھا موسی پر بھی تھا اور عیسی پر بھی تھا اور بعد میں آنے والے پر بھی ہوگا۔آپ کے بعض احسان تو اُن افراد پر بھی