مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 23
23 فرموده ۱۹۶۶ء دو مشعل راه جلد دوم رکھ دیا ہے تا کہ اس بات پر زور دیا جائے کہ محض زبانی اقرار یا دلی اقرار کافی نہیں ہے۔جب تک کہ اعمال صالحہ بھی ساتھ نہ ہوں۔اعمال صالحہ کے معنی ہیں وہ اعمال جو ایمان کے مطابق ہوں اور جن میں کوئی فساد نہ ہو۔ہر نیک عمل کو یا اچھے عمل کو یا عمدہ کام کو قرآن کریم کی زبان میں اور اسلام کی اصطلاح میں عمل صالح نہیں کہتے۔بلکہ عمل صالح اس عمل کو کہا جاتا ہے جو قرآن کریم کی ہدایت کے مطابق ہو اور پھر ان اصولوں کے مطابق ہوں جو اللہ تعالیٰ نے وضع کئے ہیں۔اگر وہ ایسا نہیں تو ممکن ہے بہت سے لوگوں کی نظر میں وہ عمل اچھا اور عمل صالح ہو لیکن خدا تعالیٰ کی نگاہ میں وہ عمل عمل صالح نہیں ہوتا۔اس لئے کہ وہ خدا تعالیٰ کے بتائے ہوئے طریق کے مطابق نہیں کیا گیا۔اس کی موٹی مثال عفو ہے۔عفو کے لفظ پر جب ہم غور کرتے ہیں تو ہمارے سامنے یہ بات آتی ہے کہ اسلام نے مظلوم کو یہ اجازت دی ہے اور یہ حق بھی دیا ہے کہ وہ اپنے ظلم کا بدلہ بتائے ہوئے طریق کے مطابق حاصل کرے۔مثلاً اگر وہ کسی با قاعدہ اور منظم حکومت کے ماتحت ہے تو اس حکومت نے جو قوانین وضع کئے ہیں وہ ان کے مطابق جاکے اپنا بدلہ لے۔قرآن کریم نے یہ بھی اجازت دی ہے کہ اگر تم چاہو تو معاف کر سکتے ہو لیکن اس کے ساتھ اس نے ایک شرط بھی لگادی ہے اور وہ شرط یہ ہے کہ تمہیں معاف کرنے کی اجازت صرف اس صورت میں ہے کہ عفو کے نتیجہ میں شر میں زیادتی نہ ہو بلکہ ظلم کے مٹنے کی توقع ہو۔اگر عفو کے نتیجہ میں اصلاح متوقع ہو تو تم عفو کر سکتے ہو۔اگر عفو کے نتیجہ میں اصلاح متوقع نہیں تو تم عفو نہیں کر سکتے۔اب اگر ایک شخص جس پر ظلم کیا گیا ہے اس کی کوئی چیز چھین لی گئی ہے۔یا اس کا کوئی حق تھا جو مارلیا گیا ہے۔وہ شخص یہ جانتے ہوئے بھی کہ اگر میں نے معاف کر دیا تو اس کی اصلاح نہیں ہوگی وہ صرف لوگوں کی واہ واہ حاصل کرنے کی خاطر یا اس سے بڑھ کر کسی اور فائدہ کی خاطر اس شخص کو جس سے اس نے وہ حق لینا ہے کہتا ہے۔جاؤ میں تمہیں معاف کرتا ہوں اور اللہ تعالیٰ جانتا ہے اور اس مظلوم سے بھی یہ بات پوشیدہ نہیں کہ یہ شریر انسان ہے اگر اس کو اس طرح معافی مالتی رہی تو اس علاقہ میں اس ماحول میں اس کا شر بڑھ جائے گا۔کم نہیں ہوگا۔شاید لوگ واہ واہ کریں کہ یہ بڑا بلند انسان ہے یا اس نے اپنے دشمن کو معاف کر دیا اور شاید وہ شخص بھی جس کو اس نے معاف کیا ہے یہ کہے کہ تم بڑے پیارے ہو۔تم نے مجھے معاف کر دیا لیکن وہ عمل صالح نہیں ہو گا۔خدا تعالیٰ آسمان سے کہے گا تم میرے پیارے نہیں ہو کیونکہ تم نے اس وقت معاف کیا جب میں نے تمہیں منع کیا تھا اور کہا تھا معاف نہ کرنا۔عمل صالح غرض ہر اچھا نظر آنے والا عمل عمل صالح نہیں۔بلکہ عمل صالح وہ اچھا عمل ہے جو ایمان کے مطابق ہو۔جہاں تک خدام الاحمدیہ کے کاموں کا تعلق ہے۔خدام الاحمدیہ کے وہی کام اسلامی اصطلاح کی رو سے اعمال صالحہ میں شمار ہوں گے۔جو خلیفہ وقت کی ہدایات کے مطابق کئے جائیں۔اگر خلیفہ وقت نے ایک منصوبہ تیار کیا ہو مانے بعض ہدایات دی ہوں اور ہم انہیں چھوڑ کر دوسری طرف چلے جائیں تو خواہ وہ کام جنہیں ہم نے کیا ظاہر