مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 253
253 فرموده۰ ۱۹۷ ء ضامن ہیں۔دد دو مشعل راه جلد د دوم یہ ایک حقیقت ہے کہ جماعت احمدیہ کو قائم ہی اس لئے کیا گیا ہے کہ ہم ان لوگوں سے جو مظلوم ہیں جن سے نفرت کی گئی ہے اور جن پر دنیا کی حقارت کی نگاہیں پڑتی رہی ہیں ان سے کہیں کہ آج کے بعد تمہیں کوئی بھی نفرت اور حقارت سے نہیں دیکھے گا لیکن اگر ہم اس اعلان کے بعد یا اس اعلان کے ہوتے ہوئے اپنے اس فرض کی طرف توجہ نہ دیں تو وہ آج نہیں تو کل ہم سے بھی مایوس ہو جائیں گے۔دو تین سو سال پہلے عیسائیت بھی افریقہ میں یہی پیغام لے کر گئی تھی۔میں نے ان سے کہا کہ میں یہ تسلیم کرتا ہوں کہ جب عیسائیت تمہارے ملکوں میں آئی تو پادریوں نے یہی کہا تھا کہ وہ خداوند یسوع مسیح کی محبت کا پیغام لے کر آئے ہیں لیکن ان کے معا پیچھے یورپین اقوام نی فوجیں دوڑ رہی تھیں۔ان کی توپوں سے پھول نہیں جھڑے تھے ، گولے برس رہے تھے اور پھر انہوں نے تمہارا جو حال کیا وہ تم خود جانتے ہو مجھے کہنے کی ضرورت نہیں۔اب ہم محبت کا پیغام لے کر آئے ہیں اور پچاس سال سے تمہارے اندر بیٹھے ہوئے تمہاری خدمت کر رہے ہیں۔اور تم جانتے ہو کہ ہم تم سے پیار بھی کرتے ہیں اور تمہارے حقوق پر ہماری نگاہ نہیں، نہ ہم تمہاری سیاست میں کوئی دخل اندازی کرتے ہیں اور نہ تمہارے مال میں ہمیں کوئی دلچسپی ہے۔ہم نے جو کچھ کمایا وہ بھی تمہارے ملک پر خرچ کر دیا مثلاً ہمارے کانو کے ایک کلینک نے دو سال ہوئے ۱۵ ہزار پونڈ یعنی تین لاکھ روپیہ بچایا ہوا تھا۔یہاں سے انہیں ہدایت بھجوائی کہ اپنے کلینک کو ہسپتال بنا دو۔چنانچہ ایک نہایت خوبصورت بلڈنگ ہسپتال کی بن گئی ہے۔میں نے ان سے کہا کہ تمہاری دولت میں ہمیں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔باہر سے ہمارے بھائیوں نے قربانیاں دیں اور ہم وہ مال تمہارے پاس لے کر آگئے۔یہاں سے جو کما یا وہ بھی تمہارے ملک میں خرچ کر دیا اور جو باہر سے لائے وہ بھی یہیں خرچ کر دیا اور اس کا تمہاری حکومت کو بھی پتہ ہے اور تم خود بھی جانتے ہو اور اس سے صرف ان کو اس طرف توجہ دلانا مقصود تھا۔لیکن یورپی قوموں نے تمہارے ساتھ وہ سلوک نہیں کیا۔وہ اپنے ساتھ تو ہیں لے کر آئے تھے اور انہوں نے تمہاری سیاست میں دخل دیا تمہیں اپنا محکوم بنالیا۔تمہاری عزتیں چھینیں اور تمہارے اموال لوٹے۔یعقو بو گوون مجھے بڑے پیار سے ملا ہے۔میں اس کا بڑا ممنون ہوں۔دنیوی معیار کے لحاظ سے تو اس کا سر پھولا ہوا ہونا چاہیئے تھا دماغ خراب ہونا چاہیئے تھا امریکہ کے خلاف بیا فرا کی سول وار جیتی ہوئی تھی اور چند دن پہلے بیا فرانے Surrender (سرنڈر) کیا تھا۔لیکن میرے ساتھ وہ اس طرح ملا جس طرح اپنے گھر کا ایک بچہ ہو۔دس بارہ منٹ کے بعد میں نے اٹھنے کی کوشش کی کہا کہ نہیں ابھی بیٹھیں پھر دوسری بار میں اٹھنے لگا تو کہا نہیں ابھی اور بیٹھیں میں نے سمجھا تھا کہ Coursty Call ہے۔اس لئے میں نے دو دفعہ اٹھنے کی کوشش کی لیکن وہ برابر میرے ساتھ باتیں کرتا رہا۔حالانکہ ہماری اس ملاقات سے پانچ دن پہلے آرچ بشپ آف ویسٹ افریقہ گوون سے ملنے گیا تھا۔اس کو اس نے دعا کے لئے نہیں کہا لیکن مجھے اس نے کہا کہ دعا کریں۔میں سمجھا کہ یہ عیسائی ہے ممکن ہے اس نے رسماً کہا ہو۔میرے دل نے فیصلہ کیا کہ یہ نہیں ہو سکتا کہ میں ہاتھ اٹھالوں اور یہ آرام