مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 240 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 240

مشعل راه جلد دوم د را فرموده ۱۹۷ء 240 مورخه ۱۱۶ خاء ۱۳۴۹ هش (۱۲ اکتو بر۰ ۱۹۷ء) بوقت سوا تین بجے مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ کے سالانہ اجتماع کا افتتاح کرتے ہوئے حضور نے جو روح پرور تقریر فرمائی تھی اس کا مکمل متن ذیل میں درج کیا جاتا ہے۔تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :- ہمارے محبوب آقا حضرت نبی اکرم علی نے ہر نسل کو بڑا پیار دیا ہے۔اس وقت میں آپ کے پیار اور محبت کا ایک جلوہ آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ آپ نے مجھے اور آپ میں سے ہر ایک کو مخاطب کر کے فرمایا:۔وإِنَّ لِنَفْسِكَ عَلَيْكَ حَقًّا( صحیح بخاری) کہ تیرے نفس کا بھی تجھ پر حق ہے۔اس کے یہ معنے نہیں کہ انسان خود ہی اپنے حقوق قائم کر کے ان کے مطالبات شروع کر دے۔بلکہ اس کے معنے یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کے ذریعہ اور آنحضرت علیہ کی قرآنی تفسیر کے ذریعہ ہر فرد واحد کے جو حقوق مقرر کئے ہیں، ہر فرد واحد اور ہر نفس کو ان حقوق کا خیال رکھنا چاہیئے۔ان کا علم حاصل کرنا چاہیئے اور ان کے لینے کی کوشش کرنی چاہیئے۔اللہ تعالیٰ نے اصولی طور پر ہر نفس کا جوحق مقرر کیا ہے وہ یہ ہے کہ ہمارے اسی رب کریم نے ہر نفس کو جو طاقتیں اور قو تیں اور استعداد یں عطا کی ہیں ان قوتوں اور طاقتوں اور استعدادوں کو ان کی نشو ونما کے کمال تک پہنچایا جائے۔ہر نفس کا یہ حق ہے کہ وہ اپنے دائرہ استعداد میں اپنی قوتوں کو کمال تک پہنچائے اور اپنے دائرہ استعداد میں وہ اللہ تعالیٰ کا ایک کامل اور مکمل فرد بن جائے۔اس کا حقیقی بندہ بن جائے۔یہ بہت بڑا احسان ہے۔احسان اس لئے بھی کہ بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ان کا کوئی حق نہیں یعنی ایثار اور قربانی کی روح کو اور اس کے مطالبہ کو غلط معنے پہنا کر وہ خود کو اپنے بہت سے حقوق سے محروم کر لیتے ہیں اور یہ احسان ہے ہم پر اس معنے میں بھی کہ ہمیں منع کیا اس بات سے کہ اللہ تعالیٰ نے جو حق تمہیں دیئے ہیں۔ان کے باہر جا کر ان چیزوں کا مطالبہ نہ کرنا جن پر تمہارا حق نہیں ہے۔یہ مضمون اپنے نفس میں بہت لمبا ہے اگر میں حقوق یا حقوق نفس کہنا چاہیئے وہ گنوانے لگوں تو بڑا وقت گئے شاید کئی دن لگ جائیں۔میں ان حقوق میں سے صرف ایک حق کو اس وقت لینا چاہتا ہوں اور اس کے مطابق