مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 241
241 فرموده ۱۹۷۰ ء د و مشعل راه جلد دوم دد آپ کو بعض باتیں کہنا چاہتا ہوں۔اور وہ آپ کا یہ حق ہے کہ آپ پکے اور بچے اور حقیقی خادم بنیں کیونکہ خادم بننا بھی انسان میں ایک قوت ہے جو اللہ تعالیٰ نے اسے عطا کی۔پس اس قوت کو یعنی خادم بننے کی قوت اور استعداد کو اس کے کمال تک پہنچانا چاہیئے اس کی نشو ونما ادھوری نہ رہ جائے بلکہ جس حد تک کوئی فرد یا نفس اپنے خادم بنے کی طاقت کو زیادہ سے زیادہ نشو ونما دے کر انتہائی رفعت تک پہنچا سکتا ہے وہاں تک اس کی خدمت کا جذبہ پہنچنا چاہیئے۔اس حق کو پوری طرح حاصل کرنے کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک مقام پر بارہ باتوں کا ذکر فرمایا ہے۔میں پہلے وہ حوالہ پڑھ دیتا ہوں پھر مختصراً ان بارہ باتوں کے متعلق آپ سے کچھ کہوں گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اپنی زندگی کے ایک دور میں حکومت کے بعض افسروں اور ذمہ دار آدمیوں کو بڑے قریب سے دیکھنے کا موقعہ ملا۔اور آپ نے یہ سوچا کہ حکومت اور اس کے افسر قوم کے خادم ہوتے ہیں۔اور آپ نے یہ سمجھنے کی کوشش کی اور اس کے متعلق علم حاصل کیا اور اس کا مشاہدہ کیا اور یہ دیکھنے کی کوشش کی کہ حکومت کے افسروں وغیرہ میں ایک خادم کی خوبیاں پائی جاتی ہیں یا نہیں۔چنانچہ آپ اس نتیجہ پر پہنچے کہ الا ما شاء اللہ چند اچھے آدمی بھی ہیں وہ قوم کے خادم ہیں۔وہ اپنی ذمہ داری کو سمجھتے بھی ہیں ان کے اندر خدمت کا جذبہ بھی پایا جاتا ہے لیکن وہ استثنا ہیں۔قاعدہ کلیہ نہیں ہیں۔اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے آپ نے اپنے مشاہدہ کو اس رنگ میں بیان کیا کہ ان کے اندر یہ یہ باتیں پائی جانی چاہئیں ورنہ وہ خادم نہیں بن سکتے اور میں یہ باتیں ان میں دیکھنا چاہتا ہوں۔تو آپ کے اس ارشاد سے مجھے یہ خیال پیدا ہوا کہ میں اپنے خادم بچوں کو ان کے اس حق کی طرف توجہ دلاؤں کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں ایک خدمت کی قوت بھی دی ہے۔انسان کے اندر خدمت کرنے کا ایک جذ بہ ہوتا ہے یعنی وہ چاہتا ہے کہ میں دوسروں کا خادم بنوں۔دوسروں کی مدد کرنے والا ان کی تکالیف کو دور کرنے والا اور ان کی راحت کے سامان پیدا کرنے والا بنوں۔یہ جو انسان کی فطرت کا تقاضا ہے اس کی پوری نشو ونما کے لئے جن چیزوں کی ضرورت ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمیں اس مختصر سے اقتباس میں ان کی طرف توجہ دلائی ہے۔آپ فرماتے ہیں:- میں نے ملازمت پیشہ لوگوں کی جماعت میں بہت کم ایسے لوگ پائے کہ جو محض خدا تعالیٰ کی عظمت کو یاد کر کے اخلاق فاضلہ حلم اور کرم اور عفت اور تواضع اور انکسار اور خاکساری اور ہمدردی مخلوق اور پاک باطنی اور اکل حلال اور صدق مقال اور پر ہیز گاری کی صفت اپنے اندر رکھتے ہوں“۔(کتاب البریہ صفحه ۱۶۸ حاشیه ) یہاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے بارہ باتوں کا ذکر فرمایا ہے جو ایک خادم میں پائی جانی چاہئیں۔لیکن آپ نے دیکھا کہ جو لوگ حکومت کی ملازمت میں ہیں جنہیں قوم کا خادم بنا چاہیئے ان میں یہ