مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 235
235 فرموده ۱۹۷۰ء د و مشعل راه جلد دوم دد ضرورت کے وقت ہمدردی کرتے اور ہر قسم کی مدد کرتے ہیں۔بتانے کی بات نہیں اور نہ میں تفصیل میں جاؤں گا مگر یہ حقیقت ہے کہ ہم ان کی ضرورتوں کے وقت ان کے کام آتے ہیں اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ ان کی عزت اور احترام کرتے ہیں۔اصل مسئلہ اقتصادی نہیں بلکہ محبت اور مساوات کا ہے میں نے گزشتہ چھ ماہ سے ایک مہم چلائی۔پاکستان میں اور اب اس دورے کے موقع پر باہ بھی اور میں نے یہ کہا کہ دنیا کا سب سے پہلا مسئلہ اقتصادی مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ ہے کہ انسان انسان سے پیار نہیں کرتا اور مساوات نہیں ہے۔ہمارے ملک میں ایک غریب آدمی چیتھڑوں میں ملبوس ڈی سی صاحب سے ملنے جاتا ہے تو اس کا چپڑاسی ہی اسے اندر نہیں جانے دیتا اور بعض دفعہ دھکے دے کر باہر نکال دیتا ہے۔جس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کی بحیثیت انسان قدر نہیں کی گئی اس کی عزت اور احترام نہیں کیا گیا۔اگر پاکستان کے افسر اور اسی طرح دنیا کے دوسرے افسر جو اپنے آپ کو بڑا سمجھتے ہیں وہ رسول کریم کے فرمان کے مطابق عمل کریں اور ایک غریب ان پڑھ جاہل بظا ہر گندا کام کرنے والے سے انسانیت کا سلوک کریں تو دنیا کے مسائل خود بخود حل ہو جاتے ہیں۔جس شخص کو پیارل جاتا ہے اس کی آدھی سے زیادہ بھوک یقینا جاتی رہتی ہے۔اگر میں اپنے حالات کی وجہ سے مثلاً اتنے آدمیوں کو روٹی نہ دے سکوں جتنے میرے پاس آ جاتے ہیں۔مثلاً میں ۵۰۰ کو روٹی کھلا دوں اور میرے پاس ۶۰۰ آجائیں تو باقی ۱۰۰ کو بڑے پیار کے ساتھ بڑی معذرت کے ساتھ معافیاں مانگتے ہوئے یہ کہوں کہ دل تو چاہتا ہے کہ تمہارے پیٹ بھی پالوں مگر میرے پاس اس کی توفیق نہیں تو وہ بڑے خوش ہو کر چلے جائیں گے۔لیکن اگر میں ان کی عزت نہ کروں ان کا احترام نہ کروں خود کو ان سے ارفع جانوں تو ان کی تسلی نہ ہوگی نہ ہونی چاہیئے۔اس اعلان کے ہوتے کہ انما انا بشر مثلکم ان کی تسلی نہیں ہونی چاہیئے۔اس اعلان کے بعد آپ کو ہر انسان سے پیار کرنا پڑے گا۔اگر آپ نے محمد اور اس کے اللہ کا پیار حاصل کرنا ہے ورنہ دنیا کو تسلی نہ ہوگی۔اور فتنہ فساد جو ہر جگہ ظاہر ہورہا ہے اس ملک میں بھی فرانس میں بھی، جرمنی میں بھی، غرضیکہ مشرق اور مغرب میں، اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ انسان انسان سے پیار نہیں کرتا اس کو اپنے جیسا نہیں سمجھتا اپنے آپ کو بڑا سمجھتا ہے۔حالانکہ خدا تعالیٰ نے بطور بشر کے اس کو بڑا نہیں بنایا کیسے بنا سکتا تھا بڑا جبکہ اس محمد صلعم کے منہ سے خود یہ کہلوایا کہ میں تمہارے جیسا انسان تم میرے جیسے انسان۔اس انسانیت کے مقام سے پھر اخلاقی اور روحانی رفعتوں کے حصول کا سوال پیدا ہوتا ہے اور ہم جانتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ ان رفتعوں کے حصول میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہر انسان سے آگے نکل گئے اور ایک بلند تر مقام عزت اور احترام اللہ تعالیٰ کے پہلو میں حاصل کیا لیکن وہ انسانیت کے مقام سے بلند ہونے کے بعد تھا انسانیت کے مقام پر سارے انسان برابر ہیں۔آج وقت ہے کہ دنیا اس پیغام کو سمجھے اور اس سے فائدہ اٹھائے اور اس کی ذمہ داری ہے کہ دنیا اس پیغام کو سمجھے اور اس سے فائدہ اٹھائے آپ احمد یوں پر ہے۔صلى الله