مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 217 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 217

217 فرموده ۱۹۶۹ء د مشعل راه جلد دوم اس جماعت میں کسی خاندان کی اجارہ داری مقرر نہیں کی گئی اس میں ایک ہی اصول مقرر کیا گیا ہے۔جسے قرآن کریم نے إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللهِ أَنقَكُم (الحجرات آیت نمبر ۱۴) کے الفاظ میں بتایا تھا۔پس جو تقویٰ کے علاوہ کسی اور عزت کا خواہاں ہے وہ جاہل ہے یا مفسدانہ خیالات رکھنے والا ہے۔اللہ تعالیٰ اس سے محفوظ رکھے۔غرض تقویٰ ہی میں ساری عزت ہے۔جس کا مطلب ہے یہ ہے کہ انسان اپنے آپ کو کسی چیز کے قابل نہ سمجھے۔خود کو خدا تعالیٰ کی پناہ میں لے آئے اور اسی سے طاقت حاصل کر کے دنیا کا کام کرے اور اسی سے علم پا کر بولے اور اسی کو سب کچھ سمجھے اور ساری دنیا کو ایک مردہ کیڑا سمجھے اور فخر اور معجب اور تکبر اور ریا اپنے دل کے اندر پیدا نہ ہونے دے۔تب جا کر انسان اللہ تعالیٰ کی محبت کی نگاہ کا مورد بنتا ہے۔اس کے بغیر وہ اللہ تعالیٰ کی محبت کو پاہی نہیں سکتا ایسے ہزاروں لوگ ہیں جن کو خدا تعالیٰ کا پیار ملا ہے اور وہ اپنی اپنی جگہ خاموش زندگی گزار رہے ہیں۔ان میں سے اکثر ایسے بھی ہیں جن کو دنیا پہچانتی ہی نہیں۔ہماری جماعت کے لوگ بھی ان کو نہیں پہچانتے لیکن خلیفہ وقت اور جماعت تو ایک ہی وجود کا نام ہے اس لئے خلیفہ وقت کو تو پتہ ہوتا ہے کہ یہ بے نفسی کے لحاظ سے کون کس مقام کا انسان ہے۔پس اس وقت اللہ تعالیٰ کی رحمت آئی ہوئی ہے اس رحمت کو حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے اور بہتوں نے حاصل کی ہے اور کرتے رہیں گے۔اس کی تو فکر نہیں یعنی یہ ڈر نہیں کہ ایسے لوگ کہاں سے پیدا ہوں گے لیکن جو تد بیر اور کوشش ہے وہ ضروری ہے۔کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس دُنیا کو اسباب کی دُنیا بنایا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ دنیا تدبیر کی دنیا ہے کیونکہ اسباب کی دنیا میں بہر حال تدبیر کرنی پڑتی ہے۔جہاں اسباب کی دنیا نہیں وہاں تدبیر کوئی نہیں۔مثلاً فرشتوں کو کوئی تدبیر نہیں کرنی پڑتی اور اسباب کی دنیا سے مراد دراصل یہ ہے کہ دنیا اسباب کی ہو اور دل میں یہ احساس ہو کہ یہ اسباب کی دنیا ہے اس لئے میں یہ کام کر رہا ہوں۔شاید کسی کے دل میں یہ خیال آئے کہ جانور اس طرح کی تدبیر نہیں کرتے۔یہ صحیح ہے کہ انسان کی طرح جانور تدبیر نہیں کرتے لیکن کچھ نہ کچھ تدبیران کو بھی کرنی پڑتی ہے لیکن ان کو تو یہ احساس ہی نہیں کہ یہ اسباب کی دنیا ہے اور یہاں کوئی تدبیر ہونی چاہیے ان کے اندر تو فطرتی جذ بہ پایا جاتا ہے۔میں نے پہلے بھی ایک جگہ بتایا تھا کہ ایک بوٹی ہوتی ہے بکری اس کے پاس سے گزرتی ہے۔وہ اسے سوکھتی ہے مگر تیوری چڑھاتے ہوئے پرے ہٹ جاتی ہے۔وہ فطرتا یہ جھتی ہے کہ یہ میرے کھانے کی چیز نہیں ہے۔اس کے پیچھے پیچھے بھیٹر آرہی ہوتی ہے وہ بھی اس بوٹی کو سوکھتی ہے تو اس کے چہرے پر بشاشت آ جاتی ہے اور وہ بڑے شوق سے اُسے کھانے لگ جاتی ہے۔پس ان کے اندر تو ایک اور قانون جاری کر رکھا ہے۔لیکن جہاں اسباب کی دنیا ہے وہاں تدبیر کرنی پڑے گی۔لیکن جو تد بیر کرنی پڑے گی وہ کامیاب صرف اس وقت ہوسکتی ہے جب اللہ تعالیٰ کا فضل شامل حال ہو۔دنیوی لحاظ سے تدابیر کے متعلق اللہ تعالیٰ نے یہ قانون بنایا ہے کہ جو لوگ مذہب سے دور چلے جائیں گے اور اس ابتلاء اور امتحان کی دنیا میں اپنے آپ کو غرق کر دیں گے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم ان کے لئے ابتلاء کے سامان پیدا کر دیں گے اور یہ دنیا ان کو دے دیں