مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 214 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 214

د و مشعل راه جلد دوم فرموده ۱۹۶۹ء 214 آخری بلندی پر پہنچ گئے۔ہمارا کام ختم ہو گیا۔یہ تو ایسے پہاڑ کی چڑھائی ہے کہ جس کی چوٹی کوئی ہے ہی نہیں۔کیونکہ یہ وہ پہاڑ ہے جس کے اوپر عرض رب کریم ہے اور انسان اور اللہ تعالیٰ کے درمیان جو فاصلہ ہے وہ غیر محدود ہے اور ہمیں یہ کوشش کرنی چاہیے اور اسی میں ہماری زندگی اور حیات ہے کہ ہم کسی جگہ پر تھک کر بیٹھ نہ جائیں۔یا کسی جگہ ٹھہر کر یہ نہ سمجھ لیں کہ ہم نے جو حاصل کرنا تھا کر لیا۔نہیں ہمارے لئے غیر محدودترقیات اور رفعتیں مقدر کی گئی ہیں اور اگر ہم کوشش کریں اور واقعہ میں اللہ تعالیٰ ہمارے دل میں اخلاص اور ایثار اور محبت ذاتی اپنے لئے محسوس کرے تو وہ ہم پر فضل نازل کرتا چلا جائے گا اور کرتا چلا جاتا ہے۔جس کے نتیجہ میں انسان خدا تعالیٰ سے اور زیادہ پیار حاصل کرتا ہے اور اپنے نفس سے وہ اور زیادہ دور اور بے گا نہ ہو جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ میاں طاہر کو جزا دے پس کام ہوا اور بڑا اچھا کام ہوا۔انشاء اللہ آگے بھی کام ہوں گے اور بڑے اچھے ہوں گے۔اور تنظیمی لحاظ سے ہم کچھ اور بلند ہو جائیں گے لیکن چوٹی پر نہیں پہنچ سکتے کہ جس کے بعد ہم سمجھ لیں کہ بس اب ہمارا کام ختم ہو گیا۔کیونکہ جہاں بھی ہم کھڑے ہوئے وہاں ہم گرے اور ہلاک ہوئے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس لغزش اور اس ہلاکت سے محفوظ رکھے اور اللہ تعالیٰ ایسے سامان پیدا کرے کہ ہمارے جیسے کمزور بندوں میں جس کو بھی کسی تنظیم کی قیادت نصیب ہو۔وہ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی توفیق اور مدد سے اس کا اہل ثابت ہو اور اللہ تعالیٰ اس کے ذہن میں جلا پیدا کردے۔اس کے دل میں ایک عزم اور ہمت پیدا کر دے اور جس طرح خلیفہ وقت کا یہ کام ہے کہ تمکین دین ہو وہ اس کے لئے ایک مضبوط اور قابل اعتماد اور ہمت اور عزم رکھنے والا باز و بن جائے۔وہ بھی اور اس کے ما تحت تنظیم بھی اور اس طرح اپنی جگہ ایک ایسی تنظیم قائم ہو جائے کہ جس کے ذریعہ سے علاوہ اور ذرائع کے خلیفہ وقت جماعت کے خوف کو امن سے بدلنے والا اور دشمنوں کے جھوٹے امن کو حقیقی خوف میں تبدیل کرنے والا ہو۔اب ہم دو کے لئے دُعا کریں گے۔اللہ تعالیٰ میاں طاہر احمد کو جزا دیے ہر انسان سے لغزشیں اور غفلتیں ہو ہی جاتی ہیں۔لیکن جیسا اللہ تعالیٰ انسان کے دل میں اخلاص کو دیکھتا اور بے نفسی کو پاتا ہے تو اس کی مغفرت جوش میں آتی ہے اور انسان کی بشری کمزوریوں پر اس طرح پردہ پڑ جاتا ہے کہ کئی دفعہ میں نے سوچا ہے کہ ہمارا رب ہم سے کتنا پیار کرنے والا ہے کہ وہ بعض دفعہ انسانی غفلتوں پر اس طرح پردہ ڈالتا ہے کہ خود غفلت کرنے والے کو بھی یہ پتہ نہیں ہوتا کہ میں نے کیا غفلت کی ہے۔یہ کتنی مہربانی اور پیار ہے اس کا۔پس اللہ تعالیٰ مغفرت کی چادر میں ان کو لپیٹے رکھے۔اپنی رحمت سے ہمیشہ ان کو نو از تار ہے۔اور اس عاجزی کے مقام سے ان کو کبھی دور نہ کرے اور جس طرح پہلے انہوں نے خدا تعالیٰ کے دین کی خدمت کی توفیق پائی۔اب دوسری راہوں پر دوسرے میدانوں میں بھی وہ خدمت بجالانے کی توفیق پاتے رہیں اور جس طرح جانے والے صدر نے ایک اور حیثیت سے خدمت کی توفیق پائی اور وہ بہت سے کام کرتے رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے ان