مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 200
و د مشعل راه جلد دوم فرموده ۱۹۶۹ء 200 ہے یہ تمہاری ترقی کے لئے آیا ہے۔یہ اس لئے آیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں جو قو تیں اور طاقتیں عطا فرمائی ہیں تم اس کی مرضی اور منشاء کے مطابق صحیح طور پر ترقی کے مدارج طے کرتے چلے جاؤ۔در حقیقت خداداد قوتوں کی صحیح نشو ونما ہی قرب الہی پر منتج ہوتی ہے۔ایک عجیب نکتہ اس لئے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک اور عجیب نکتہ بھی بیان فرمایا ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے انعامات میں سے ایک بڑا انعام یہ ہے کہ اس کی مخلوق صفات باری کے جلووں کے اثرات کو قبول کرنے کی طاقت رکھتی ہے۔یعنی اللہ تعالیٰ نے ان میں سے ہر مخلوق میں یہ طاقت رکھی ہے۔آپ نے دنیا کے سامنے اس حقیقت کو پیش کیا کہ چونکہ ہر مخلوق اللہ تعالیٰ کی صفات کی جلووں سے اثر قبول کرنے کی طاقت رکھتی ہے اس لیے خواص مخلوق غیر محدود ہیں کیونکہ خدا تعالیٰ کے جلوے غیر محدود ہیں۔جو مضمون میں بیان کر رہا ہوں اس کا ذکر اس طرح ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو مختلف قسم کے چار قوی دیئے ہیں اور فرمایا ہے کہ میں نے ان قویٰ کی نشو ونما کے لئے جس چیز کی ضرورت تھی وہ بھی میں نے پیدا کر دی ہے۔تمہاری راہبری کے لئے قرآن عظیم دے دیا ہے۔پھر تعلیم و تربیت کی رو سے تمہاری فطرت کا یہ مطالبہ تھا کہ ان الفاظ سے ٹھیک طرح سمجھ نہیں آ رہی اس لئے کوئی نمونہ ہونا چاہیئے چنانچہ آنحضرت ﷺ کے وجود میں ایک بہترین اسوہ تمہارے سامنے رکھ دیا گیا۔اگر تم اس تعلیم کے مطابق حضرت نبی اکرم ﷺ کی سنت کی اتباع کرتے ہوئے اپنے قومی کی نشو ونما کرو گے تو آسمان سے میری صفات اس رنگ میں نازل ہونگی کہ تمہارے قویٰ کی کما حقہ تربیت ہو سکے کیونکہ ان قومی کے اندر بھی میں نے اپنی صفات کا اثر قبول کرنے کی خاصیت رکھی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم جب میری ہدایت کے مطابق اور میرے محبوب مے کے اسوہ کی پیروی کرتے ہوئے اپنے قومی کی نشو و نما کرو گے تو میں آسمان سے اس رنگ میں الہی صفات کا جلوہ نازل کروں گا کہ تمہاری قوتیں اس کے اثر کو قبول کرتے ہوئے بہترین نشو و نما حاصل کر کے اپنی استعداد کو کامل اور مکمل طور پر بروئے کارلاؤ گے تو تمہیں میرا قرب حاصل ہو جائے گا۔شہید کابل کا ذکر خیر یہی وہ خزانہ تھا جسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دُنیا کے سامنے پیش کیا اور یہی وہ خزانہ تھا جس کی قدر و قیمت وہ لوگ جانتے تھے جو آپ کے ارد گرد دیوانہ وار جمع ہو گئے جیسا کہ میں نے بتایا ہے انہوں نے ساری دُنیا کے مقابلے میں اس خزانے کو قیمتی جانا اور اس کے مقابلے میں ساری دنیا کو بھی سمجھا اور ہنستے ہوئے جان دے دینے سے بھی دریغ نہیں کیا۔اس سلسلہ میں ایک پاک نمونہ حضرت صاحبزادہ سید عبدالطیف شہید رضی اللہ عنہ کا ہے۔آپ کا ذکر خود خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے۔جب شہید حج کے ارادے سے اپنے گھر سے نکلے اور