مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 185
185 فرموده ۱۹۶۹ء بچپن میں تربیت کرنے کی ضرورت د و مشعل راه جلد دوم دد ایک اور ضروری بات جس کی طرف بھی فوری توجہ کرنی ہے اور یہی اس وقت آپ اطفال کے لئے میرا پیغام یا میری ہدایت ہے کہ دنیا میں بعض علاقے ایسے بھی ہیں جہاں عام طور پر بڑے قیمتی پتھر ہیرے جواہرات پائے جاتے ہیں۔افریقہ میں بعض علاقے ایسے بھی ہیں جہاں بعض خاندان تو اپنے بچوں کو بتا دیتے ہیں کہ یہ قیمتی پتھر ہیں۔یہ عام پتھر نہیں لیکن بہت سے والدین یا گارڈین اس سے غفلت برت رہے ہوتے ہیں اور وہ ان کی اس رنگ میں تربیت نہیں کرتے اور انہیں یہ نہیں بتاتے کہ یہ ہیرا ہے یہ زمرد ہے یہ یا قوت ہے یا یہ دوسری قسم کے قیمتی پتھر ہیں اور ان کی کوئی قیمت ہے اور ان کو سنبھال کر رکھنا ہے ایسے بچے بعض دفعہ کھیل رہے ہوتے ہیں کہیں سے مٹی کو اکٹھا کرتے ہیں تو نیچے ہیرا پڑا ہوا ہوتا ہے یا پھروں کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں کے ساتھ کھیل رہے ہوتے ہیں اور ان میں بعض دفعہ ہیرا بھی ہوتا ہے۔لیکن انہیں اس کا پتہ نہیں ہوتا۔یہ میں آپ کو کہانی نہیں سنار ہا بلکہ واقعہ بتارہا ہوں دنیا میں اس قسم کے خطے ہیں جہاں یہ پتھر بڑی کثرت سے ملتے ہیں اور وہاں بعض بچے ان پتھروں کی قدرو قیمت سے غافل ہوتے ہیں۔وہ اس لحاظ سے جاہل ہوتے ہیں ان کو کچھ علم ہی نہیں ہوتا۔کچھ پتہ ہی نہیں ہوتا کہ ان پتھروں کی کیا قیمت ہے یہ عام پتھر نہیں۔دوسری مثال میں آپ کے سامنے یہ رکھنا چاہتا ہوں (اس اثناء میں ایک بچے کی حرکات کو دیکھ کر حضور نے فرمایا ) ضمن میں یہ بھی بتا دینا ہوں کہ میری آنکھوں کو یہ عادت پڑ گئی ہے شاید اس کا شکریہ مجھے خدام الاحمدیہ کو ادا کرنا ہے کہ میرے سامنے جو مجمع ہو اس کی حرکت میری نظر میں ہوتی ہے۔اس واسطے کوئی بچہ یہ نہ سمجھے کہ وہ میری نظر سے اوجھل ہے سارا مجمع جس سے میں مخاطب ہوتا ہوں وہ میری نظر میں ہوتا ہے۔اور یہ عمر چونکہ تربیت کی ہے اس واسطے مجھے بولنا پڑے گا اور آپ کو شرمندہ ہونا پڑے گا۔اور میں یہ نہیں چاہتا کہ آپ شرمندہ ہوں۔اس لئے آپ توجہ سے سنیں اور یہ مثال جس کا میں نے ابھی ذکر کیا ہے وہ یہ ہے کہ مثلاً دوچھوٹے کینوس کے تھیلے ہیں جو ہم نے بازار سے خریدے ہیں۔ان کی قیمت تین چار روپے ہے۔ہم نے ایک تھیلے میں پتھروں کے ٹکڑے بھر لئے ہیں اور دوسرے تھیلے میں ہیرے اور جواہرات بھر لئے۔ان میں سے ہیرے اور جواہرات سے بھرے ہوئے تھیلے کی قیمت بہت زیادہ ہے یا پتھروں سے بھرے ہوئے تھیلے کی؟ (سب بچوں نے جوابا عرض کیا جس تھیلے میں ہیرے جواہرات بھرے ہوئے ہیں )۔ہمیں اللہ تعالیٰ نے ایک ایسا روحانی خزانہ دیا ہے جس میں روحانی ہیرے اور جواہرات پائے جاتے ہیں۔مثلاً ایک ہیرا جو برصغیر پاک و ہند میں تھا اور جسے انگریز یہاں سے غصب کر کے لے گئے۔یہ برصغیر اس کا اصل مالک ہے۔بہر حال یہ دنیوی دولت تو بے وفا ہے۔ایک گھر سے نکل دوسرے گھر میں چلی جاتی ہے۔پس وہ تھیلا زیادہ قیمتی ہے جس میں ہیرے جواہرات پڑے ہوں بہ نسبت اس تھیلے کے جس میں پتھر کے ٹکڑے ہوں بلکہ ان دونوں میں کوئی نسبت ہی نہیں ہے۔ایک چند روپوں کا ہے اور ایک وہ ہے کہ بادشاہوں کے خزانے خالی ہو جائیں