مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 150 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 150

فرموده ۱۹۶۹ء 150 د و مشعل راه جلد دوم بتائیں کہ تم ہمدردی کے قابل ہو تمہارا رد عمل درست نہیں ہے۔ٹھیک ہے عقائد کا اختلاف ہوتا ہے لیکن جنسی خوشی اور نہایت شرافت کے ساتھ ایک دوسرے سے تبادلہ خیال ہونا چاہیے۔پس جب غیر سے بات کرتے وقت آپ کے منہ سے کوئی ایسی بات نہ نکلے جو اخلاقی معیار سے گری ہوئی ہو تو وہ آپ کی باتوں سے اثر پذیر ہوئے بغیر رہ ہی نہیں سکتا۔۱۹۵۳ء میں ہمیں بہت گالیاں دی گئیں تھیں اور جماعت احمدیہ کو نقصان پہنچانے کے لئے بڑے منصوبے کیسے گئے تھے لیکن انہوں نے نقصان تو کیا پہنچانا تھا۔ہمارے حق میں اس کا ایک خوشگوار نتیجہ یہ نکلا کہ بہت سے لوگ احمدی ہو گئے اور کئی اب آ کر کہتے ہیں کہ ہم تو احمدیت کو مٹانے اور احمدیوں کو قتل کرنے کے درپے رہتے تھے۔چنانچہ ایک دوست نے بتایا کہ میں ان فسادات کے دوران میں چھرا لے کر پھرا کرتا تھا کہ جہاں کوئی احمدی مل گیا قتل کر دوں گا۔مگر چند مہینے کے اندر اندر سے اللہ تعالیٰ نے احمدیت قبول کرنے کی توفیق دے دی اور بڑا مخلص اور فدائی احمدی بن گیا۔غرض یہ چیزیں جو ہیں وہ انسان پر اثر انداز ہوئے بغیر رہ نہیں سکتیں۔احمد یوں کو دیئے گئے تین ہتھیار پس اللہ تعالیٰ نے آپ کو تین ہتھیار ایسے دیے ہیں جو لوگوں کو مارنے یا ہلاک کرنے یا قتل کرنے کے لئے نہیں بلکہ زندہ کرنے کے لئے دیئے گئے ہیں۔قرآن کریم نے بھی حضرت نبی اکرم اللہ کے متعلق فرمایا ہے کہ یہ رسول لوگوں کو اپنی طرف اس لئے بلا رہا ہے کہ انہیں زندہ کرے۔کیونکہ وہ اس وقت روحانی طور پر مردہ ہیں۔پس حضرت رسول کریم ﷺ کے متعلق قرآن کریم میں یہ صریحاً بیان موجود ہے کہ آپ انہیں مارنے کے لئے نہیں بلا رہے بلکہ زندہ کرنے کے لئے بلا رہے ہیں۔اسی طرح ہمارے متعلق بھی لوگوں کا یہی تاثر ہونا چاہیے کہ کوئی احمدی کسی کو دکھ دینے یا اس سے مذاق کرنے یا استہزاء یا تحقیر کے الفاظ استعمال کرنے کے لئے نہیں بلا رہا بلکہ ہر غیر کے دل میں یہ احساس ہونا چاہیے کہ احمدی ہماری بھلائی کے لئے ہم سے باتیں کرنا چاہتا ہے۔عقلی دلائل اپنی تدبیر ہیں بہت سارے لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جنہیں ہمارے موقف کا پتہ ہی نہیں ہوتا۔یہ میرا ذاتی تجربہ ہے۔چنانچہ میں نے دیکھا ہے کہ عام طور پر کالج میں جہاں اس وقت میری ملاقاتیں ہوسکتی تھیں یا جب میں سفر کر تا تھا تو بعض دفعہ میرے ہم سفر بڑے پڑھے لکھے ہوتے تھے۔میں نے آج تک ختم نبوت کے متعلق کسی پڑھے لکھے غیر احمدی دوست سے بات نہیں کی جس نے آخر میں یہ جواب نہ دیا ہو کہ اگر یہی بات ہے تو آپ کے خلاف اتنا شور کیوں ہے۔شور اس لئے ہے کہ جہالت ہے سمجھتے نہیں بلکہ سنتے ہی نہیں اور کچھ لوگوں نے اس مسئلے کو اپنے رزق اور روزی کمانے کا ذریعہ بنایا ہوا ہے وہ اس پر پل رہے ہیں اور ہمیں وہ قیمت دیتے ہیں۔جو گالیاں دے کر اپنے پیٹ پال رہے ہیں۔They have to pay us ( یعنی وہ ہمیں قیمت ادا کرتے ہیں۔ان کی وجہ سے سینکڑوں لوگ احمدی ہورہے ہیں۔ایسی جگہ پر چاہے احمدیت کا ذکر مخالفت کے رنگ میں پہنچ جائے گا جہاں