مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 133
133 فرموده ۱۹۶۹ء د مشعل راه جلد دوم۔تو۔کھلاؤ تو اس نے یہ نہیں کہا کہ کوئی تمہیں مسلمان بھوکا نظر آئے تو تم اسے کھانا کھلا ؤ بلکہ اس نے یہ کہا کہ کوئی دہریہ بھوکا تمہیں نظر آ جائے کوئی یہودی بھوکا تمہیں نظر آ جائے کوئی عیسائی بھوکا تمہیں نظر آ جائے۔کوئی ہندو بھوکا تمہیں نظر آ جائے۔کوئی امیر بھو کا تمہیں نظر آ جائے ( وقتی طور پر ایک امیر بھی بھوکا ہوسکتا ہے۔مثلاً وہ ابن سبیل ہے اور اس کی جیب کتری گئی ہے اور وہ وقتی طور پر غریب ہو گیا ہے کیونکہ وہ غیر جگہ ہے اور اس کی جیب میں پیسے نہیں) تمہیں کوئی غریب بھوکا نظر آ جائے تو ہر دو کا تم نے پیٹ بھرنا ہے ہر دو کا تم نے خیال رکھنا ہے۔ہر دو کو تم نے آرام پہنچانا ہے۔پھر جب اس نے کہا کہ تم نے کسی انسان کو بھی دکھ نہیں پہنچانا تو اس نے یہ نہیں کہا کہ تم نے کسی مسلمان کو دُکھ نہیں پہنچانا بلکہ اس نے یہ کہا کہ کسی انسان کو بھی دکھ نہیں پہنچا نا خواہ اس کا تعلق کسی مذہب سے ہو یا وہ لامذہب دہر یہ یا بت پرست ہو۔خوا وہ انبیاء کو برا بھلا کہنے والا ہو۔خواہ وہ اپنی جہالت کی وجہ سے نبی کریم جیسے محسن کے خلاف نفرت کے جذبات رکھنے والا ہو تم نے کسی کو بھی دکھ نہیں پہنچانا کیونکہ اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ میں نے اس جنس (بنی نوع انسان کو اشرف المخلوقات بنایا ہے۔وہ اپنی بدقسمتی سے اور اپنی جہالت کے نتیجہ میں اپنے اس شرف کو بعض دفعہ کھو دیتے ہیں۔اس کی سزا میں انہیں دوں گا۔لیکن تمہاری نگاہ میں ایسے انسان کے لئے جس نے اپنی عزت کے جامہ کو اپنے ہاتھ سے پھاڑ دیا ہو۔حقارت نفرت اور بے غیرتی کے جذبات پیدا نہیں ہونے چاہئیں۔اللہ تعالیٰ کا یہ بڑا احسان ہے کہ اس نے ہمیں اپنا خادم (اگر ہم واقعی اس کی نگاہ میں خادم بن جائیں تو اس سے بڑا احسان اور کیا ہوسکتا ہے ) بنا کر اپنی ہر مخلوق کی خدمت پر لگا دیا۔اور اس کے مقابلہ میں ہم سے اس کی جزا کا ان انعامات کا وعدہ کیا کہ بڑے سے بڑا امیر بلکہ دنیا کے سارے امراء اور دولتمند ا کٹھے ہو کر بھی اس جزا کا کروڑ واں حصہ بلکہ اربواں حصہ جزایا بدلہ یا اجرت یا تنخواہ (جو نام بھی آپ رکھ لیں ) نہیں دے سکتے۔اللہ تعالیٰ نے بڑا ہی فضل کیا ہے کہ اس نے ہمیں اپنا خادم بنالیا ہے۔اگر ہم خدمت کے تقاضوں کو پورا کریں تو جو اجرت یا جو انعام یا جو فضل یا محبت کا جو سلوک اللہ تعالیٰ ہم سے کرے گا۔وہ اتنا بڑا ہے اجر۔اتنا بڑا انعام۔اتنی اچھی اور پیاری اور خوبصورت چیز ہے کہ اگر ہم اس کو پالیں تو اس دنیا کی اور اس دنیا کی ساری نعمتوں کو ہم نے پالیا۔کیونکہ ساری مخلوق مل کر بھی عزت کی اس نگاہ کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔جو انسان اپنے رب کی نگاہ میں پاتا ہے اور اس کی قدر اور قیمت کو وہ سمجھتا ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ہم خدمت کی ذمہ داریوں کو پوری طرح نبا ہیں مختلف پہلوؤں سے اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی خدمات کا ذکر اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں کر دیا ہے۔ہم اسلام کی تعلیم کو سنے اور سمجھنے اور یادر کھنے کے لئے یہاں