مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 123
123 فرموده ۱۹۶۸ء دو مشعل راه جلد دوم دد کے درخت اگے ہوئے ہیں، کہیں اقوال طیبہ کے درخت اگے ہوئے ہیں۔کچی اور میٹھی باتیں ، دل موہ لینے والی باتیں ، خدا تعالیٰ کی حمد وثنا کے بول یہ ساری باتیں جو اسلام نے سکھائی ہیں ان کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ انعام دیتا ہے۔ان انعاموں کی مثال ہم درختوں پھولوں اور دوسری چیزوں سے دے سکتے ہیں۔کوئی ہماری کسی حس کو آرام پہنچا رہا ہے اور کوئی کسی حس کو آرام پہنچارہا ہے۔دنیا میں مثلاً آم ہیں ان کے مقابلہ میں روحانی طور پر ایک درخت ہے جو ہمیں روحانی غذا مہیا کر رہا ہے۔یا مثلا گلاب کا پھول ہے جو آنکھوں کو بھی اچھا لگتا ہے اور اس کی خوشبو بھی بڑی اچھی لگتی ہے۔اسی طرح بعض اعمال کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ روحانی طور پر گلاب کے پھول پیدا کر دیتا ہے اور جب ہم اللہ تعالیٰ کے ان فضلوں کو دیکھتے ہیں تو ہماری آنکھیں بھی خوش ہوتی ہیں۔ہمارا ناک بھی بڑا خوش ہوتا ہے کہ نہایت اچھی اور بھینی بھینی خوشبو آ رہی ہے۔غرض ہم سرسبز علاقے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ نے ہمیں کہا ہے کہ اگر تم اپنی نسل میں نیکی کی بنیاد کو قائم کر کے اگلی نسل کو ذریت طیبہ بنانے کی کوشش نہیں کرو گے اس حد تک جتنا تمہارے ہاتھ میں ہے۔جتنی تمہارے لئے ممکن ہے۔تو پھر میں یہ سر سبز علاقے بنجر کر دوں گا۔پھر یہ عمتیں یہاں نازل نہیں ہوں گی۔پس ہمیں ہر وقت یہ خطرہ رہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں اور انعاموں سے ہمیں یہ ایک سرسبز علاقہ ملا ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ ہمارے گناہوں کے نتیجہ میں یہ سرسبز علاقہ بنجر بن جائے۔حضرت آدم اور حوا نے گناہ کیا تھا اور اس کی وجہ سے عارضی طور پر ان سے بھی سرسبز علاقے چھین لئے گئے تھے اور کہا گیا تھا کہ پھر نیکی کرو تو سر سبز علاقہ تمہیں ملے گا۔اللہ تعالیٰ تمثیلی زبان میں باتیں کیا کرتا ہے یہ بھی ایک تمثیلی زبان ہے۔میں بھی آپ سے تمثیلی زبان میں باتیں کر رہا ہوں یعنی میں ایک مثال دے رہا ہوں۔ویسے تو روحانی انعام الفاظ میں نہیں بتائے جاسکتے۔خصوصاً بچوں کیلئے ان کا سمجھنا مشکل ہے۔ممکن ہے آپ میں سے بعض ایسے بچے ہوں کہ جن کے والدین کے پاس عمدہ باغ ہوں ان میں بڑا اچھا پھل لگتا ہو۔اللہ تعالیٰ نے پانی با افراط دیا ہو۔زمین اچھی دی ہو۔فراست دی ہو۔موقع پر اور وقت پر پانی دیا جاتا ہو۔کھاد دی جاتی ہو۔پودے سرسبز اور پھلوں سے بھرے ہوئے ہوں مگر یہ دنیوی باغ تو ایک وقت میں پھل دیتے ہیں لیکن جو روحانی باغ میں وہ سدا بہار ہیں ان میں سے جن درختوں کو آم لگتے ہیں ان کو بارہ مہینے ہی ہم لگتے ہیں ان میں انگور کی بیلوں کو بارہ مہینے ہی انگور لگتا ہے۔آپ جن کے والدین کے پاس باغات ہیں کبھی یہ نہیں سوچیں گے کہ اپنے باغ کو کا ٹیں آپ سمجھیں گے کہ یہ خدا کی نعمت ہے ہم اس سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔مزیدار اور خوشبو دارسیب اور لذیذ آم ہمیں کھانے کو ملتے ہیں۔اسی طرح ہم دوسرے پھل ان سے حاصل کرتے ہیں ہم انہیں کیوں کاٹیں۔غرض جو عارضی چیزیں ہیں جو وقتی لذتیں ہیں ان کو ضائع کرنے کیلئے ایک بچہ بھی کم عقل ہونے کے باوجود تیار نہیں ہوگا۔بلکہ میں نے دیکھا ہے کہ بعض چھوٹے چھوٹے بچے (چھ سات برس کی عمر کے بچے) ان کی کسی چیز کوغیر ہاتھ لگانے لگے اور وہ سمجھیں کہ وہ چیز ٹوٹ نہ جائے تو وہ اسے کھانے کو پڑتے ہیں اور کہتے ہیں پرے ہٹ کہیں میری یہ چیز نہ تو ڑ دینا۔تو دیکھو دنیا کی