مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 110 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 110

د دمشعل نل راه جلد دوم دل کی مضبوطی کے لئے تقوی ضروری ہے فرموده ۱۹۶۸ء 110 القوی کے ایک دوسرے معنی ہیں دل کا مضبوط اور دل کی مضبوطی کے لئے تقویٰ کی ضرورت ہے کیونکہ جو شخص اس معرفت کو حاصل کرلے وہ اللہ کی پناہ میں آ گیا ہے ( جو تقویٰ کے معنی ہیں ) اور خدا کی ڈھال اس کے سامنے ہے اس کے دل میں بزدلی پیدا نہیں ہو سکتی۔کسی قسم کی کمزوری نہیں پیدا ہوسکتی۔یہی وجہ ہے کہ انبیاء علیہم السلام کے مخلصین پیروکار اور تبعین کبھی بھی اپنے مخالفوں کی طاقت اور ان کے مادی سامانوں سے گھبرائے نہیں بلکہ بے خوف ہو کر وہ خدا تعالیٰ کے ایسے احکام کی اطاعت کرتے رہے ہیں کہ دنیوی قواعد کی رو سے وہ کام خالص موت نظر آتے تھے۔کمزورں کو موت نظر آتی تھی قرآن کریم میں بھی ذکر ہے کے بعض نے کہہ دیا کے لڑائی ہوتی تو ہم لڑتے لیکن تم تو ہمیں موت کے منہ میں دھکیل رہے ہو پھر کیسے ہم سے توقع رکھتے ہو کہ ہم موت کے منہ میں چلے جائیں گے اب دیکھو منہ تو وہی تھا لیکن ایک کو وہ موت کا منہ نظر آ رہا تھا اور ایک کو اللہ کی محبت کا جلوہ وہاں نظر آتا تھا وہ ان کے لئے کوہ طور بن گیا تھا پھر جس طرح اللہ تعالیٰ نے انبیاء علیہم السلام کی جماعتوں کی حفاظت کی ہے اور خصوصا نبی اکرمﷺ کے متبعین کی جانوں کی حفاظت کی ہے وہ حیران کن ہے۔جتنا زور نبی اکرم ہے کے خلاف آپ کے دشمنوں نے لگایا اور کسی نبی کے خلاف اُس کے دشمنوں نے نہیں لگایا اور ظاہر ہے کہ یہ کوئی ایسی چیز نہیں کہ کوئی شخص ہم پر یہ اعتراض کرے کہ اپنے متعلق تمہارا یہ دعوی ہے حضرت موسٹی اور ان کی قوم کے خلاف زور لگانے والوں پر قرآن کریم اور تاریخ نے جو روشنی ڈالی ہے اس کے مطابق وہ فرعون تھا یا اُس کی قوم تھی یا پھر خود یہودیوں میں سے بعض گروہ تھے جو انہیں ہر وقت تنگ کرتے رہتے تھے لیکن نبی اکرم کے خلاف زور لگانے والی ساری دنیا تھی اور اسی زمانہ کے قیصر و کسری جن کی طاقت اس زمانہ کے امریکہ اور روس کی طاقتوں کے برابر تھی۔مقابل پر آئے اور مسلمانوں کی مٹھی بھر جماعت تھی لیکن ہم ان کے متعلق القوی کا لفظ استعمال کرتے ہیں کیونکہ وہ دلوں کے بڑے مضبوط تھے اس لئے کے وہ اس یقین پر قائم تھے کے گوہم کمزور اور کم مایہ ہیں لیکن خدا تعالیٰ نے ہم سے وعدہ کیا ہے کے میں تمہاری ڈھال بن کر تمہارے سامنے آؤں گا تم میں بعض کو بے شک شہادت کا انعام مل جائے گا لیکن بحیثیت مجموعی دنیا کی کوئی طاقت تمہیں تباہ نہیں کر سکتی پھر اس زمانہ کی تاریخ سے آگے چلیں تو ہم دیکھتے ہیں کے ساری دنیا نے ہر قسم کا زور لگا یا مادی طاقت یا مادی زور صرف تلوار، بندوق ، یا ایٹم بم کا ہی نہیں بلکہ دجل کا بھی ہے اسلام کے خلاف جو کثرت اشاعت دجل کی گئی ہے کسی اور مذہب کے خلاف نہیں کی گئی۔لاکھوں کروڑوں اور اربوں کتابیں اسلام کے خلاف شائع کی گئی ہیں یہ کتابیں محض جھوٹ کے پلندے تھے جو دشمنوں نے شائع کئے اور ساری دنیا میں دنیا کے کونہ کونہ میں ، ہر شہر اور ہر قریہ میں ان کو پھیلایا اور انہوں نے اپنا سارا زور لگایا لیکن وہ لوگ جن کے دلوں میں حقیقی تقویٰ تھا وہ گھبرائے نہیں۔