مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 111
111 فرموده ۱۹۶۸ء حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت کا مقصد د مشعل راه جلد دوم دد اب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ دعوی کیا ہے کے اللہ تعالیٰ نے آپ کو دنیا میں اسلام کو غالب کرنے کے لئے معبوث فرمایا ہے اور نبی کریم ﷺ کے ایک روحانی فرزند جلیل کی شکل میں معبوث فرمایا ہے۔کچھ لوگ آپ کے گرد جمع ہو گئے۔ہم میں سے بعض تو وہ ہیں جو نئے نئے احمدیت میں داخل ہوئے ہیں اور بعض وہ ہیں جو احمدیوں کے بچے ہیں۔دیکھو! اس زمانہ میں بھی جہاں تک مادی ذرائع کا تعلق ہے یا تعداد کا تعلق ہے ہماری کوئی حیثیت نہیں۔ساری دنیا اسلام پر حملہ آور ہے اور اس کے مقابل مٹھی بھر چند دل ہیں جو اسلام کی حقیقی ہمدردی اور خیر خواہی رکھنے والے ہیں۔لیکن اس یقین پر قائم ہیں کہ اللہ ہماری ڈھال اور ہمارا مددگار اور محمد اور معاون ہے اس لئے ہمیں گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ان کے دل میں کوئی خوف نہیں پیدا ہوتا۔ہمارے کم عمر کم علم ، غریب، بے کس، بے چارے نوجوان جاتے ہیں اور دھڑلے کے ساتھ ان پادریوں سے بھی ٹکر لیتے ہیں جن کو پوپ بھی ملاقات کا وقت دینے پر مجبور ہوتا ہے۔جن سے امریکہ کا پریذیڈنٹ بھی گھنٹہ گھنٹہ بات کرتا ہے۔جن سے ملنا بڑا مشکل ہے۔اتنا رعب ہوتا ہے ان کا لیکن ہمارے اس نوعمر مبلغ کے دل پر ان کا رعب طاری نہیں ہوتا۔اس لئے کہ وہ نو جوان اسلام کا خادم ہونے کی وجہ سے القوی ہے۔دل کا مضبوط ہے وہ اس معنی میں مضبوط ہے کہ وہ جانتا ہے اللہ میری ڈھال ہے اور جس کی ڈھال اللہ ہو اس کو کون نقصان پہنچا سکتا ہے۔دل کی مضبوطی کے لئے تو کل بھی چاہیئے یعنی انسان تدبیر اور کوشش کو انتہا ء تک پہنچائے اور نتیجہ کو خدائے قادر وتو انا کی ذات پر چھوڑ دے تو کل کے یہ معنے ہیں کہ جس وقت انسان اپنی پوری کوشش کر لیتا ہے لیکن سمجھتا ہے کہ یہ کوشش اتنی حقیر سی ہے۔تعداد میں ہم کم ہیں۔اموال کم ہیں۔ذرائع کم ہیں۔وسائل کم ہیں لیکن انسان کی اس کوشش کا نتیجہ اور اس کی تدبیر کا نتیجہ اس کی تدبیر کی وجہ سے نہیں نکلتا۔بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے نکلتا ہے۔کامل تو کل دل کو مضبوط کرتا ہے اور اصولاً ہم کہ سکتے ہیں کہ ایمان کا کمال انسان کے دل کو مضبوط کرتا ہے اور ایمان کو صحیح طور پر تربیت دینے کے لئے قرآن کریم کے علوم کا سیکھنا ضروری ہے۔اس لئے ہم خدام الاحمدیہ کو ہر وقت یہ کہتے بھی رہتے ہیں اور انتظام بھی کرتے ہیں کہ قرآن کریم پڑھو قرآن کریم پڑھو قرآن کریم پڑھو۔اس پر غور کرو اور اس کے سمجھنے کی کوشش کرو۔اور جنہوں نے اس پر پہلے غور کیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے جن کو فراست عطا کی ہے۔اور اپنی طرف سے انہیں بہت سا علم عطا کیا ہے۔ان کی تفاسیر کو پڑھو۔ان پر تدبر کرو۔ان تفاسیر کا مطالعہ دل کو مضبوط کرتا ہے۔کیونکہ اس کے نتیجہ میں انسان تو کل اور تقویٰ کے مقامات حاصل کر سکتا ہے۔القوی یعنی دنیوی ساز وسامان والا تیسرے معنی القوی کے اس شخص کے ہیں جس کے پاس خارجی طاقت ہو قوت ہو مال ہود نیوی