مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 105 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 105

105 فرموده ۱۹۶۸ء دو مشعل راه جلد د ، دوم الاحمدیہ کا جو پچاس ہزار روپیہ چندہ تھا اس میں سے صرف گیارہ ہزار روپیہ وصول ہوا ہے میری یہ خواہش بھی ہے اور میں دعا بھی کرتا ہوں کہ جماعت کے نوجوان بچے اور چھوٹے بچے جنہیں میں نے اس میں شامل کیا ہوا ہے وقف جدید کا سارا بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھا ئیں اور میرے نزدیک ایسا ممکن ہے لیکن ان کے والدین اور سر پرست اپنی ذمہ داری کا احساس نہیں رکھتے یا انہیں ذمہ داری کا اتنا احساس نہیں جتنا ہونا چاہیے۔انہیں یہ سوچنا چاہیے کہ وہ دو چیزوں میں سے کون سی چیز پسند کریں گے۔ایک یہ کہ ان کے بچے بچپن کی عمر سے ہی بجل کی عادتوں سے چھٹکارا حاصل کر کے اس دنیا میں اور اس دنیا میں اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے وارث ہوتے چلے جائیں۔یا وہ یہ پسند کریں گے کہ جہنم کے اندر ان بچوں کی گردنوں میں وہ طوق ہو جس کا ذکر قرآن کریم کی اس آیت میں کیا گیا ہے جس کی میں نے ابھی تلاوت کی ہے۔آپ یقیناً پہلی بات کو ہی پسند کریں گے لیکن صرف دعوئی سے نتیجہ نہیں نکلا کرتا۔یہ مادی دنیا عمل کی دنیا ہے جو شخص عمل ( دعا بھی ایک عمل ہے جب میں عمل کہتا ہوں تو میری مراد ہر اس عمل سے ہے جس کے کرنے کی اللہ تعالیٰ نے ہمیں توفیق دی ہے اور جس کے کرنے کا اس نے ہمیں حکم فرمایا ہے ) کرتا ہے تو اس عمل کا ہی نتیجہ اسے ملتا ہے۔جو شخص یہ کہے کہ مسجد میں باجماعت نماز پڑھنی چاہیے سوائے عذر معقول کے اور صبح سے شام تک وہ یہ وعظ کرتا رہے لیکن ایک نماز بھی مسجد میں پڑھنے نہ آئے تو کیا آپ سمجھتے ہیں کہ اس کو باجماعت نماز کا ثواب مل جائے گا اس لئے کہ بارہ گھنٹے اس کے منہ سے ایسے فقرات نکلتے رہے کہ مسجد میں جا کر نماز پڑھنی چاہیے۔ہرگز نہیں۔وقف جدید اور بچے پس اگر آپ کے دل میں یہ احساس ہو کہ کہیں ہمارے بچوں کو بخل کی عادت نہ پڑ جائے اور اس عادت میں وہ پختہ نہ ہو جائیں تو مہینہ میں ایک اٹھنی ( یا جو اور بھی غریب ہیں یعنی جو خاندان اقتصادی لحاظ سے اچھے نہیں ان کے متعلق میں نے کہا ہے کہ ایک خاندان کے سارے بچے مل کر ایک اٹھنی مہینہ میں دیں) ایسی چیز نہیں جو بوجھ معلوم ہو۔صرف توجہ کی کمی ہے اور یہ حالت دیکھ کر مجھے شرم آتی ہے۔پس میں بچوں کو بھی اور ان کے والدین اور سر پرستوں کو بھی اس طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ ہم نے آہستہ آہستہ عادت ڈال کر وقف جدید کے نظام کو مالی لحاظ سے بچوں کے سپر د کر دینا ہے۔ابھی تو ابتداء ہے اور پچاس ہزار روپیہ کی رقم ان کیلئے مقرر کی گئی ہے لیکن یہ رقم دولاکھ، اڑھائی لاکھ یا تین لاکھ ہو جائے گی۔ضرورتیں بڑھیں گی تو قربانی کا جذبہ بھی بڑھے گا اور ایثار بھی بڑھے گا اور چندہ بھی بڑھتا جائے گا۔اللہ تعالیٰ جماعت کے بچوں کو توفیق دے گا کہ وہ اس چندہ میں زیادہ سے زیادہ حصہ لیں۔اور یہ کوئی ایسی رقم نہیں ہے جو ادا نہ ہو۔اس وقت جماعت کی جو اقتصادی حالت ہے اس کو سامنے رکھیں تو یہ مشکل امر نہیں کہ بچے اس بوجھ کو اٹھا لیں لیکن وہ تو بچے ہیں اصل ذمہ داری تو ان کے سر پرستوں اور والدین پر ہے۔ایک بچہ مثلاً پانچ سال کا ہے اب اللہ تعالیٰ اس سے یہ نہیں پوچھے گا کہ تم نے میری راہ میں قربانی کیوں نہیں