مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 101
101 فرموده ۱۹۶۸ء د و مشعل راه جلد دوم تھا وہ کیا تھی۔تاریخ ایسی مثالوں سے بھری پڑی ہے اور ان مثالوں سے صاف ظاہر ہے کہ ان قربانیوں کے پیچھے جو روح تھی وہ یہ تھی کہ نحن الفقراء الى اللہ ہم اللہ تعالیٰ کے محتاج ہیں اور الله هو الغنی الحمید اللہ کوکسی کی احتیاج نہیں۔تمام تعریفوں کا وہ مالک ہے۔ہمیں اپنی دنیوی اور اخروی ضرورتوں کیلئے یہ قربانیاں دینی چاہئیں اور دنیوی اور اخروی انعاموں کے حصول کیلئے ان قربانیوں کا پیش کرنا ہمارے لئے ضروری ہے۔ان مثالوں سے روز روشن کی طرح یہ بات واضح ہوتی ہے کہ صحابہ کے اندر جو روح تھی وہ یہ تھی کہ الفقراء الی اللہ۔منافق ہر جگہ ہوتے ہیں اس وقت میں ان کی بات نہیں کر رہا۔ان میں سے جو خلص اور ایثار پیشہ تھے اور بھاری اکثریت انہی لوگوں کی تھی۔ان کی زبان پر یہودیوں کی طرح یہ نہیں آتا تھا کہ ان اللہ فقیر و نحن اغنیاء بلکہ ان کی زبان پر یہ تھا۔ان کے دل میں یہ احساس تھا اور ان کی روح میں یہ تڑپ تھی کہ وہ الفقراء الی اللہ ہیں۔نہ ان کی کوئی مادی ضرورت پوری ہوسکتی ہے اور نہ روحانی جب تک کہ اللہ تعالیٰ ان کی ضرورت کو پورا نہ کرے۔غرض جس سے ہم نے ہر شے کو حاصل کرنا ہے اس کی رضا کے حصول کیلئے پانچ روپیہ یا پانچ لاکھ روپیہ قربان نہیں کیا جا سکتا ؟ میں نے صحابہ کرام کی ایک مثال دی ہے کہ جس کے پاس دو جوڑے کپڑے تھے اس نے ایک جوڑا کپڑے پیش کر دیئے۔تفصیل تو نہیں ملتی لیکن یہ امکان ہے کہ ان میں سے کسی کو اس قربانی کی توفیق ملی ہو اور اس کے بعد وہ مثلاً فوت ہو گیا ہو اور مزید قربانی کا اس کو موقع نہ ملا ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دعا اسے تو اس قربانی کے نتیجہ میں اخروی انعامات مل گئے لیکن اس کی اولاد کو اس ایک جوڑے کپڑوں کے نتیجہ میں اتنے اموال دیے گئے کہ اگر وہ چاہتے تو اس قسم کے ایک ہزار جوڑے بنالیتے۔پس ہم خدا تعالیٰ کے محتاج ہیں۔ہم فقیر ہیں۔خدا تعالیٰ ہمارا محتاج نہیں۔حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ایک بڑی پیاری بات کہی ہے جو قرآن کریم نے بھی نقل کی ہے اور وہ یہ ہے رَبِّ إِنِّی لِمَا أَنْزَلْتَ إِلَيَّ مِنْ خَيْرٍ فَقِیر کہ ہر چیز کی مجھے احتیاج ہے۔جو بھلائی بھی تیری طرف سے آئے میں اس کا محتاج ہوں۔میں اسے اپنے زور سے حاصل نہیں کر سکتا۔جب تک تو مجھے نہ دے وہ مجھے نہیں مل سکتی۔غرض حقیقی خیر چاہے دنیوی ہو یا اخروی وہ اللہ تعالیٰ کے فضل کے بغیر نہیں ملا کرتی۔ویسے اللہ تعالیٰ کتوں کو بھی بھوکا نہیں مار رہا۔سؤر بھی اس کی بعض صفات کے جلوے دیکھتے ہیں۔ان کو بھی خوراک مل رہی ہے اور ان کی ( مثلاً بیماریوں سے حفاظت بھی ہو رہی ہے سوائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ کسی زمانہ میں وباء کے طور پر اس قسم کے جانوروں کو ہلاک کر دے جس طرح وہ بعض دفعہ انسان کی بعض گنہ گار نسلوں کو فنا کر دیتا ہے لیکن جو سلوک ان جانوروں سے ہو رہا ہے وہ اس سلوک سے بڑا مختلف ہے جو انسان سے ہو رہا ہے اور جو سلوک ایک کتے سے ہو رہا ہے جو سلوک ایک سور سے ہو رہا ہے جو سلوک ایک گھوڑے یا بیل یا پرندوں سے ہورہا ہے اس کے مقابلہ میں جو سلوک ایک انسان سے ہو رہا ہے اس کو ہم خیر کہہ سکتے ہیں۔باقی عام سلوک ہے گو ایک لحاظ سے ނ