مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 85
85 فرمودہ ۱۹۶۷ء د و مشعل راه جلد دوم دد مسلمان پائے جائیں گے۔اب یہ قوم کی قوم دہریہ اور خدا تعالیٰ کو گالیاں دینے والی ہے۔وہ یہ اعلان کرنے والی ہے کہ ہم خدا تعالیٰ کے نام کو صفحہ زمین سے مٹادیں گے اور خدا کے وجود کو آسمان سے باہر نکال کر پھینک دیں گے۔اس قسم کے اعلان وہ کرتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کا منشاء یہ ہے، اللہ تعالیٰ کی تقدیر یہ ہے کہ ایک دن ( اور وہ دن امید ہے جلد آ جائے گا) یہ قو میں اسلام کی طرف رجوع کریں گی۔اتنی بڑی فتوحات کیلئے کیا ہم نے اپنی زندگیاں اپنے رب کے کہنے کے مطابق نہیں ڈھال سکتے۔اتنے بڑے انعامات کے حصول کیلئے کیا ہم دنیا کی چھوٹی چھوٹی چیزوں کو قربان نہیں کر سکتے۔کیا ہم اپنے پیار کرنے والے محبوب آقا کے فرمان کے مطابق اپنے دلوں کے ہر جذبہ کو (سوائے اس کی محبت کے جذبہ کے ) باہر نکال کر پھینک نہیں سکتے۔کیا ہم محمد رسول اللہ اللہ جیسے محسن اعظم کی خاطر اپنے نفسوں پر دکھ اور تکلیف اور بے آرامی اور بے سکونی ڈال نہیں سکتے۔اگر ہمارے دلوں میں جبکہ ہمارا دعویٰ ہے اللہ تعالیٰ کی محبت کا۔اگر ہمارے دلوں میں جیسا کہ ہمارا دعویٰ ہے ہمارے محبوب آقا محمد رسول اللہ ہے کی حقیقی محبت ہو۔اگر ہم اسلام اور قرآن کریم سے پیار کرتے ہیں۔اگر ہم قرآن کو ایک نور مجسم سمجھتے ہیں۔جس کے بعد اور جس سے باہر صرف اندھیرا ہی اندھیرا ہے۔اگر ہم آج یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے طفیل ہم نے اسلام کی صداقتوں کو حاصل کیا ہے تو ہمارا یہ فرض ہے کہ اس دعوئی کے مقابلہ میں ہم اپنا عملی نمونہ پیش کریں۔تا دنیا میں وہ وعدہ پورا ہو کہ اسلام ساری دنیا میں غالب آ جائے گا۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی توفیق عطا کرے۔اب میں دعا کراؤں گا اس کے بعد یہ اجتماع کامیابی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے فضل سے اپنے اختتام کو پہنچ جائے گا۔خلیفہ وقت کے دل میں احباب جماعت کے لئے محبت آپ جانتے ہیں بڑے بھی اور چھوٹے بھی کہ خلیفہ وقت کے دل میں خدا تعالیٰ جماعت کے احباب کیلئے خصوصاً اور تمام بنی نوع انسان کیلئے عموماً بڑی ہی محبت پیدا کرتا ہے اور میں اس کے فضل اور توفیق سے ہمیشہ ہی آپ میں سے ہر ایک دعا کرتا رہتا ہوں۔میں قریباً ہر نماز میں آپ کیلئے دعا کرتا ہوں۔اب بھی دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کی حفاظت اور اس کی امان میں آپ ہمیشہ رہیں۔دنیا کا کوئی وار آپ کے خلاف کامیاب نہ ہو۔اللہ تعالیٰ کے حقیقی اور بچے خادم بن کر آپ اپنی زندگیوں کو گزار ہیں اور ان تمام بشارتوں اور نعمتوں کے وارث ہوں جن کا وعدہ خدا تعالیٰ نے اپنے بندہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے آپ کیلئے کیا ہے اور آپ کو بھی اور مجھے بھی اللہ تعالیٰ تو فیق عطا کرے کہ ہم جس حد تک ا ا ا اام کے غلبہ کیلئے اس رنگ میں جس رنگ ری ان حقیر قربانیوں کو قبول کر کے اپنے میں وہ چاہتا ہے اس کے حضور قربانیاں پیش اس وعدہ کے پورا کرنے میں مدد دے۔آمین علم