مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 76
فرمودہ ۱۹۶۷ء 76 د و مشعل راه جلد دوم انشاء اللہ۔دوسرے آپ یہ فرماتے ہیں کہ ان وعدوں کے نتیجہ میں ان لوگوں پر جو میری طرف منسوب ہوتے ہیں جو میرے ہاتھ میں ہاتھ دے کر میری بیعت میں شامل ہوتے ہیں۔جو میرے خلفاء کے ہاتھ میں ہاتھ دے کر جماعت احمدیہ میں شامل ہوتے ہیں انہیں اس راہ میں انتہائی قربانیاں دینی پڑیں گی اور صدق اور وفا کا ثبوت دینا ہوگا اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں شمار ہونے کیلئے ہر وقت تیار رہنا پڑے گا۔اگر یہ جماعت ان ذمہ داریوں کو نبھالے جو اس پر ڈالی گئی ہیں تو کامیابی یقینی ہے اور کامیابی ہمارے لئے مقدر ہو چکی ہے۔تیسرے آپ نے اس میں یہ فرمایا ہے کہ بعض لوگ سستی دکھائیں گے۔بعض لوگ کمزوری دکھائیں گے۔بعض لوگ یہ ثابت کریں گے کہ ان کے پاؤں نازک ہیں۔ان کے متعلق آپ فرماتے ہیں کہ ایسے نازک پاؤں والوں کو میرا یہ مشورہ ہے کہ وہ مجھ سے علیحدہ ہو جائیں وہ میرے ساتھ رہ کر کیوں مصیبت اٹھا رہے ہیں اور یہ یا درکھیں کہ اگر آج سے کچھ عرصہ بعد اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو نازل ہوتے دیکھ کر اور آخری فتح کے دنوں کو قریب تر پاتے محسوس کر کے وہ پھر میری طرف جھکیں اور میری جماعت میں داخل ہونا چاہیں تو انہیں داخل تو کر لیا جائے گا لیکن اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں ان کی وہ عزت نہیں ہوگی جو ان لوگوں کی ہے جو پہلے دن سے ثبات قدم کا مظاہرہ کرتے ہیں کیونکہ یہ لوگ خود کو داغدار کر چکے ہوں گے اور بدظنی اور غفلت اور کسل اور غداری کا جو داغ ہے وہ بہت بڑا داغ ہے وہ مٹایا نہیں جاسکتا۔یہ تین چیزیں ہمیں ہر وقت اپنے سامنے رکھنی چاہئیں خدا تعالیٰ کے وعدوں پر پورا یقین کہ جو اس نے کہا ہے وہ ضرور پورا ہوگا۔دنیا کی کوئی طاقت اس کے راستہ میں روک نہیں بن سکتی۔یہ یقین اتنا پختہ تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دل میں کہ آپ نے (جیسا کہ ان حاظ سے ظاہر ہے ) اپنی جماعت کے سامنے یہ اعلان کیا کہ اگر تم سارے مجھے چھوڑ کر چلے جاؤ اور میں اکیلا رہ جاؤں تب بھی میں کسی سے نہیں ڈرتا۔کیونکہ میں اس خدا پر ایمان لایا ہوں اور اس کے وعدوں پر یقین رکھتا ہوں جس کے ہاتھ میں سب طاقتیں ہیں۔جو کامل اور حقیقی قدرتوں کا مالک ہے۔جو اپنے وعدوں کا سچا ہے اور جب وہ وعدہ کرتا ہے تو پورا کرتا ہے۔اس نے مجھ سے وعدہ کیا ہے کہ میں کامیاب ہوں گا تو یقیناً کامیاب ہوں گا۔میں تمہیں اپنے ساتھ تو رکھنا چاہتا ہوں۔میں تمہاری تربیت کرنا چاہتا ہوں۔اس لئے نہیں کہ خدا کو تمہاری ضرورت ہے بلکہ اس لئے کہ تمہیں اپنے رب کی ضرورت ہے۔جب تک تم یہ قربانیاں اس کے سامنے پیش نہیں کرو گے تم اس کے انتہائی فضلوں کے وارث نہیں ہو گے۔وہ بے شمار رحمتیں تم پر نازل نہیں ہوں گی جو اللہ تعالیٰ آج اس جماعت پر نازل کرنا چاہتا ہے۔یہ یقین ہر احمدی کے دل میں پیدا ہونا چاہیئے کیونکہ جب یہ یقین دل میں پیدا ہو جاتا ہے تو پھر انسان کے دل میں کوئی اور خوف باقی نہیں رہتا۔اس کو یقین ہوتا ہے اپنی کامیابی پر۔اس کو یقین ہوتا ہے ان الہی نصرتوں پر اور تائیدات اور فضلوں اور برکات پر جن کا وعدہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں دیا ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ دنیا کی یہ زندگی چند روزہ زندگی ہے اور اگر یہ زندگی اور اس کا سب کچھ قربان بھی کر دیا جائے تو جو اس کے