مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 68
د و مشعل راه جلد دوم فرمودہ ۱۹۶۷ء 68 جسموں اور تمہارے دماغوں میں کچھ زیادہ قوتیں پیدا کرنی چاہتا ہے تا جب تم پر بوجھ پڑے تو تم اس کو برداشت کرلو۔اب دیکھو کتنا مہر بان ہے خدا کئی لاکھ سال پہلے اس نے ایسے ستارے پیدا کئے جن کی روشنی اس زمانہ میں دنیا پر پڑنی تھی اور تمہاری غذا پر انہوں نے اثر انداز ہونا تھا۔غرض ماں بے شک پیار کرتی ہے لیکن اس سے بے شمار گنازیادہ پیار اللہ تعالیٰ ہم سے کرتا ہے۔پس اللہ تعالیٰ کی محبت ہمارے دلوں میں پیدا ہونی چاہیے اور جس طرح ہر شریف بچہ اس بات سے خائف ہوتا ہے کہ کہیں اس کی ماں ناراض نہ ہو جائے وہ اپنے کسی فعل کی وجہ سے اسے نہ ناراض نہ کر دے۔اسی طرح ہر سمجھدار اور شریف بچے کو یہ خیال رہنا چاہیے کہ میں کہیں اپنے رب کو ناراض نہ کر دوں۔ہم اپنی ذمہ داریوں کو اس وقت تک نبھا نہیں سکتے جب تک ہمارے دلوں میں اپنے پیدا کرنے والے رب کی وہ محبت پیدا نہ ہو جائے جو اسلام ہمارے اندر پیدا کرنا چاہتا ہے۔اس کو جو تفاصیل ہیں۔اس کی جو گہرائیاں ہیں۔اس کے جو فلسفے ہیں تمہاری عمران کے سمجھنے کی نہیں لیکن تم اتنا تو سمجھ سکتے ہو کہ ماں کا پیار تمہارے دل میں ہے اس وجہ سے کہ ماں تم سے پیار کرتی ہے اور چونکہ اللہ تعالیٰ تم سے ماں سے زیادہ پیار کرتا ہے اس لئے خدا تعالیٰ کی محبت تمہارے دلوں میں ماں کی محبت سے زیادہ ہونی چاہیے۔پھر نبی کریم ﷺ دنیا کے لئے قرآن کریم جیسی عظیم کتاب لے کر آئے اور بغیر مبالغہ کے یہ کہا جا سکتا ہے کہ دنیا میں اگر کوئی ایسا وجود ہوسکتا ہے اور ہوا ہے جس کو ہم دنیا کا حسن اعظم کہہ سکیں تو وہ محمدرسول اللہ ﷺ کا وجود ہے۔پس دوسری محبت ہماری محمد رسول اللہ اللہ کے لئے ہونی چاہیے۔تیسری محبت ہماری قرآن کریم اور اسلام کے ساتھ ہونی چاہیے۔چوتھی محبت ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ ہونی چاہیے کہ آپ کے طفیل ہم نے محمد رسول اللہ ﷺ کی شان کو پہچانا ورنہ دنیا آپ کو اور آپ کے مقام کو اور آپ کی شان کو بھول چکی تھی۔اگر تمہارے دل میں یہ حبتیں بیدار اور زندہ رہیں تو پھر ہمیں کوئی خوف نہیں۔پھر ہم سمجھیں گے کہ ہم تمہاری تربیت کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ان محبتوں کو زندہ اور قائم رکھنے کے لئے قرآن کریم کا جاننا اس کا پڑھنا اور اس کا سمجھنا بہت ضروری ہے اور قرآن کریم کو سمجھنے کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب کا مطالعہ بڑا ضروری ہے لیکن قرآن کریم کو ہر آدمی اپنی عمر کے لحاظ سے سمجھ سکتا ہے۔یورپ کے سفر میں مجھ سے ایک مسلمان نے (جو احمدی نہیں ویسے در در کھتے ہیں ) اس فکر کا اظہار کیا کہ ہم یہاں رہتے ہیں۔ہمارے خاندان اور ہمارے بچے دین اسلام سے غافل ہو رہے ہیں اور قرآن کریم پڑھانے کا کوئی انتظام نہیں۔میں نے انہیں کہا کہ انتظام تو ضرور ہونا چاہیے۔ہم بھی اس کے لئے سوچ کر کوئی سکیم بنائیں گے لیکن ایک بات میں تمہیں بتاتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ قرآن کریم دنیا کے بڑے بڑے فلاسفروں کو مخاطب کر کے بھی انہیں قائل کرتا ہے اور لاجواب کر دیتا ہے۔کوئی فلسفی قرآن کریم کے سامنے ٹھہر نہیں سکتا۔اور قرآن کریم اوسط درجہ کے علم رکھنے والوں اور ذہن