مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 58
فرمودہ ۱۹۶۷ء 58 و د مشعل راه جلد دوم ضرورت نہیں۔بہر حال اس وقت تلوار اور نیزے کی جنگ ہوتی تھی) اور چند سو آدمی ہیں یہ ان کو ختم کر دو۔ان کو قتل کر دو۔یہ مذہب خود بخود ختم ہو جائے گا۔جب انہوں نے یہ فیصلہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ سے کہا تم تھوڑے ہو غریب بھی ہو۔تمہارے پاس تلواریں بھی نہیں اور جو ہیں وہ بھی بڑی کمزور قسم کی ہیں۔ادنی قسم کی ہیں۔لیکن میرے فرشتے تمہاری مدد کے لئے آئیں گے اور تم کامیاب ہو جاؤ گے اس لئے دشمن کی طاقت اور ان کی تیز دھار تلواروں سے نہ ڈرنا اور ان کی تعداد کی طرف نہ دیکھنا۔میں جو تمہیں کہہ رہا ہوں کہ کامیاب تم ہی ہو گے۔یہ کثیر لوگ جو ہیں تمہارے مخالف یہ کامیاب نہیں ہوں گے۔چنانچہ بی کریم اللہ نے اپنے پر ایمان لانے والے اس زمانہ کے مسلمانوں کو یہ کہا کہ ہیں تو ہم تھوڑے اس میں کوئی شک نہیں غریب بھی ہیں۔ہم میں سے بعض ایسے بھی ہیں جن کو کھانے کو بھی نہیں ملتا۔اتنے غریب ہیں کہ بہت سارے ایسے ہیں جن کو ٹھیک طرح کپڑا بھی پہننے کو نہیں ملتا۔سامان بھی ہمارے پاس معمولی ہے۔بہتوں کے پاس تلواریں بھی نہیں ہیں لیکن خدا تعالیٰ نے جو تمام قدرتوں کا مالک ہے اس نے مجھے کہا ہے کہ ڈرنا نہیں کیونکہ میں تمہاری مدد کو آؤں گا اور فتح اور نصرت تمہیں کو ملے قرآن کی تعلیم میں بڑی کشش ہے چنانچہ جس طرح کہ اللہ تعالیٰ نے وعدہ کیا تھا جب بڑی تعداد میں اپنی طاقت پر بھروسہ کرتے ہوئے۔دشمن نے مسلمانوں کو تلوار سے قتل کرنا چاہا تو خدا تعالیٰ کے فرشتے آسمان سے نازل ہوئے اور انہوں نے اس زمانہ کے مٹھی بھر تھوڑے سے گنتی کے جو آدمی تھے ان کی مد کی اور دنیا نے یہ عجیب نظارہ دیکھا کہ جو تھوڑے تھے۔غریب تھے۔ان کے پاس کپڑے بھی نہیں تھے۔ان کے پاس تلواریں بھی نہیں تھیں۔لڑائی کے دوسرے سامان بھی نہیں تھے وہ غالب آگئے ان لوگوں پر جن کو سارا عرب اپنا سردار سمجھتا تھا اور مکہ کی ساری دولت جن کے ہاتھ میں تھی اور دنیا کی بہترین تلواریں لے کر جوان غریب مسلمانوں پر حملہ آور ہوئے تو اس زمانہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدہ کو آسمان سے فرشتے بھیج کر پورا کیا اور وہ مسلمان جو شروع میں بالکل تھوڑے تھے تمام دنیا پر چھا گئے پھر سارا عرب مسلمان ہوا۔پھر وہ باہر نکلے۔افریقہ کے لوگوں تک پہنچے اور ان کو قرآن کریم کی تعلیم دی۔قرآن کریم کی تعلیم میں بڑی کشش ہے۔وہ اپنی تعریف کھینچنے والی ہے۔اس میں بڑی اچھی اور پیاری باتیں ہیں اور انسان کی فطرت اسے قبول کرنے کے لئے فور اختیار ہو جاتی ہے۔بہر حال انہوں نے قرآن کریم ان کے سامنے پیش کیا۔اس کی تعلیم ان کے سامنے رکھی اور ان کے دل جیتنے شروع کئے۔پھر دنیا میں جو شیطانی طاقتیں تھیں انہوں نے کہا یہ کیا ہوا ہم تو انہیں عرب میں مارنا چاہتے تھے لیکن یہ تو عرب سے باہر نکلے اور اب وہ افریقہ میں بھی کامیاب ہو رہے ہیں۔وہ یورپ کی طرف گئے وہاں بھی انہیں کا میابی شروع ہوئی۔غرض اس وقت کی جو مہذب دنیا تھی ایسی طاقت والی دنیا تھی جس طرح آج کل امریکہ کی بڑی طاقت سمجھی