مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 564 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 564

مشعل راه جلد دوم اپنے بچوں کو سنبھالیں فرموده ۱۹۸۱ء 564 اب آنے والے زمانہ میں اپنے بچوں کو سنبھالیں انصار اور خدام الاحمدیہ اس کی عملاً کئی شکلیں ہوں گی۔جتنی توفیق ملی۔(ویسے تو مضمون لمبا ہے ) بتاؤں گا۔دنیا میں سب سے زیادہ صحت مند جماعت احمدیہ کو ہونا چاہیئے اگر انہوں نے اپنی ذمہ داریاں ادا کرنی ہیں۔جو موٹی موٹی باتیں ہیں، صحت مند ہونے کے لئے وہ یہ ہیں کہ طیب غذا ہو۔طیب غذا کا مطلب ہے کہ جو اچھی بھی ہو اور اس کے جسم سے مطابقت بھی کھاتی ہو۔ہر غذا ہر آدمی کے لئے ٹھیک نہیں، طیب نہیں۔دوسرے یہ کہ متوازن غذا ہو۔خالی آٹا کھانے سے صحت اچھی نہیں رہتی۔خالی گوشت کھانے صحت اچھی نہیں رہتی۔خالی تر کاریاں کھانے سے صحت اچھی نہیں رہتی۔خالی پھل کھانے سے صحت اچھی نہیں رہتی۔خالی دودھ پینے سے صحت اچھی نہیں رہتی۔خالی اخروٹ اور بادام اور پستہ وغیرہ کھانے سے صحت اچھی نہیں رہتی۔بلکہ اب تو بڑی تفصیل میں انسانی دماغ نے تحقیق کی اور بہت ساری شکلیں بنا کے صحیح توازن انسانی غذا میں قائم کر دیا جس کے نتیجے میں انسان کی صحت بہت اچھی ہو جاتی ہے۔اپنی صحتوں کی فکر کریں اور تیسری چیز یہ کہ جو کھایا جائے اسے بچایا جائے۔یعنی ورزشیں ایسی ہونی چاہئیں جن سے غذا جزو بدن بن جائے اور یہ ہاکی وغیرہ کی بات نہیں میں کہ رہا بلکہ ہر احمدی ہر عمر کا احمدی، ہر جنس کا مردوزن احمدی جو ہے وہ کھانا ہضم کرنے کے سامان پیدا کرے۔جو مختلف ہیں۔مثلاً میں نے (اب زیادہ باہر نہیں نکل سکتا تو ) گھر میں اپنے کمرے میں ہی ایسا سائیکل رکھا ہے جو مجھے بتا دیتا ہے کہ میں نے اتنے کلو میٹر سائیکل پر سفر کر لیا ہے۔تو ورزش جنہوں نے کرنی ہوا انہوں نے اپنے لئے طریقے نکال لئے۔صحت کے اچھے رکھنے کے لئے چوتھی چیز جو ہے وہ اخلاقی بدیوں سے بچنا ہے۔یہ نہایت ضروری ہے۔جو شخص پہنی آوارگی میں مبتلا ہو اس کی صحت بھی ٹھیک نہیں رہتی۔جو شخص جسمانی بدیوں میں مبتلا ہو اس کی صحت بھی اچھی نہیں رہتی۔یہ ایک ایسی حقیقت ہے جو کسی سمجھدار آدمی سے چھپی ہوئی نہیں۔پھر سب کچھ کرنے کے بعد ایک یہ چیز ہے جو سب سے اہم ہے کہ دعا کے ذریعے اللہ جل جلالہ کی رحمت کو جذب کیا جائے۔قرآن کریم نے بڑے حسین پیرایہ میں بتایا کہ صحتیں اچھی رکھو۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کے متعلق جن پر انہوں نے احسان کر کے ان کے ڈنگر کو پانی پلا دیا تھا اور لڑکی نے اپنے باپ کو کہا کہ جسے تو اجرت پر رکھے سب سے اچھاوہ ہے السقوی الامین (القصص: ۲۷) جوطاقتور ہو اور جسمانی طور پر بددیانتی نہ کرتا ہو۔جس کی طاقت