مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 563 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 563

563 فرموده ۱۹۸۱ء دد د و مشعل راه جلد د ، دوم خدا تعالیٰ کا قانون ہے جو اس کائنات میں ہمیں نظر آرہا ہے۔انسان میں بھی یہی جاری ہے۔انسان کے متعلق جب بات کرتا ہوں تو کہتا ہوں کہ ہر فطرتی طاقت مجاہدہ کے ذریعے اور درجہ بدرجہ بتدریج کمال کو پہنچتی ہے۔اس کے لئے مسلسل ایک مجاہدے کی ایک جد وجہد کی ایک سعی کی ضرورت ہے۔اور جو حالات ہیں آنے والے زمانہ مستقبل کے وہ ہم سے جو چار مطالبات کر رہے ہیں ان میں سے (الف) یہ ہے کہ :- جماعت احمد یہ دنیا میں سب سے زیادہ صحت مند جماعت ہو۔بڑا ضروی ہے یہ۔پہلے زمانہ میں نبی کریم اللہ سے جو تربیت حاصل کرنے والے تھے بڑا ہی کمال جسمانی صحت کے لحاظ سے ان میں پیدا ہوا تھا۔ایک مثال دیتا ہوں کسری کے مقابلے میں لڑنے والے مسلمان سارا دن تین چار بار تازہ دم سپاہیوں سے لڑائی لڑنے والے تھے۔دو گھنٹے لڑ کے کسریٰ کی سپاہ کی ایک صف پیچھے ہٹ جاتی تھی۔تازہ دم آگے آجاتی تھی۔مسلمان صبح سے شام تک لڑتے تھے اور راتوں کو اٹھ کے تہجد پڑھتے تھے۔اگر جسمانی طاقت ان میں نہ ہوتی تو حضرت مسیح علیہ السلام کی طرح ان کے منہ سے بھی یہ نکلتا کہ دل اور روح تو چاہتی ہے کہ ایسا کرو لیکن جسم روح اور دل کا ساتھ نہیں دیتا۔مسلمانوں کی روح اور ان کے دل جو تھے جو وہ مطالبہ کر رہے تھے ان کے جسم ان کا ساتھ دے رہے تھے۔کافی لمبا عرصہ تک اس قسم کے جسم انہوں نے بنائے رکھے اپنے محنت کش، جفا کش، تھکتے ہی نہیں تھے۔پتہ نہیں کس چیز کے بنے ہوئے تھے۔ایک واقعہ میں نے پڑھا۔جب نپولین ایک جگہ جنگ لڑ رہے تھے۔ان کا کیمپ کوئی پچانوے میں محاذ جنگ سے پیچھے تھا۔پہاڑی علاقہ تھا بہت کٹھن راستے ان کو ایک دن بہت زبر دست فتح حاصل ہوئی محاذ پر لڑنے والے جرنیل نے تفصیلی رپورٹ لکھی اور صبح کو ایک جرنیل کو بلایا۔اس کو کہا کہ یہ رپورٹ فوری طور پر نپولین کے ہاتھ میں پہنچنی چاہئے کیونکہ عظیم فتح ہمیں ہوئی ہے اور یہ سامنے عرب گھوڑا ہے اس پر سوار ہو جاؤ اور دوڑ و۔پچانوے ۹۵ میل پہاڑی راستوں پر عرب گھوڑے کو دوڑا تا ہوا جب وہ نپولین کے کیمپ پہ پہنچا تو نیچے اترا اور جس افسر کی ذمہ داری تھی رپورٹ لینا اس نے اس کے ہاتھ میں رپورٹ پکڑائی اور خود مر کے گر پڑا۔اور عرب گھوڑا جس کی نسل نے بنی اکرم ﷺ اور آپ کے صحابہ کی تربیت سے تربیت پائی تھی وہ اپنا پاؤں زمین پر مار رہا تھا کہ ابھی میں تھر کا نہیں۔مجھے اور چلاؤ۔اتنا فرق۔اسی کتاب میں لکھا ہے کہ ایک عرب گھوڑی ایک سوستر، ۷ امیل بغیر کھائے پیئے کے سرپٹ دوڑتی چلی گئی۔اور یہ واقعہ ہے کہانی نہیں۔بھائی دس بارہ سال کا اپنے بھائی کے سر پر سیب رکھ کر تیر سے اُڑا دیتا تھا۔اس وقت میں نشانے کی بات نہیں کر رہا۔میں اس مہارت کے حصول کے لئے جو محنت اسے کرنی پڑی اس کی بات کر رہا ہوں۔سارا سارا دن وہ اس مہارت کو حاصل کرنے میں لگاتا تھا۔