مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 53 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 53

53 فرمودہ ۱۹۶۷ء د و مشعل راه جو جلد دوم اور کوئی عاجز بندہ نہیں ہے۔میرے جیسا دنیا میں اور کوئی نا اہل نہیں ہے۔میرے جیسا دنیا میں اور کوئی کم مایہ نہیں ہے۔میں نے اپنے رب کی عظمت کو پہچانا اور اس کے مقام کا عرفان حاصل کیا اور مجھے پتہ ہے اور میں علی وجہ البصیرت کہہ سکتا ہوں کہ میں کچھ بھی نہیں سب کچھ وہی ہے کوئی طاقت ہمیں حاصل نہیں۔جب تک کہ وہ ہمیں طاقت نہ دے۔کوئی علم ہمیں حاصل نہیں جب تک کہ وہ ہمیں علم عطا نہ کرے۔کوئی خوبی ہمیں حاصل نہیں جب تک کہ ہم اس سے اس خوبی کو حاصل کرنے والے نہ ہوں اور اسی کے فضل سے حاصل کرنے والے نہ ہوں۔کوئی حسن ہم میں نہیں جب تک کہ اس کے حسن کا پر تو ہم پر نہ ہو اور احسان کرنے کی کوئی قوت ہم میں نہیں جب تک کہ وہ حسن حقیقی ہمیں یہ قوت عطا نہ کرے کہ ہم اس کے لئے اور اس کی خاطر اس کے بندوں اور اس کی مخلوق پر احسان کرنے والے ہوں تو سوائے اللہ کے میں کسی سے نہیں ڈرتا۔اس کے تو یہ معنے ہیں جو میں نے بیان کئے ہیں۔اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ ایک بچہ اپنے باپ کے سامنے کھڑا ہو اور کہے کہ میں سوائے اللہ کے اور کسی سے نہیں ڈرتا۔اس لیے اے میرے باپ میں ادب و احترام کی وہ چادر پھاڑ دوں گا جو اللہ نے تجھے پہنائی ہے۔اسکے یہ معنی نہیں ہیں کہ ایک بڑا بھائی اپنے چھوٹے بھائی کو کہے کہ چونکہ میں اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتا اس لئے میں تجھ پر شفقت کا ہاتھ نہیں رکھوں گا۔اس کے یہ معنے نہیں ہیں کہ کوئی استاد اپنی کلاس کو یہ کہے چونکہ سوائے اللہ کے میں کسی سے نہیں ڈرتا اس لئے میں تمہیں اتنا ماروں گا اتنا ماروں گا کہ بے ہوش کر دوں گا۔اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ کوئی شاگر د کلاس میں اپنے استاد سے کہے کہ چونکہ میں سوائے اللہ کے کسی سے نہیں ڈرتا اس لئے تمہارے ہاتھ میں جو سوٹی ہے اس کی میں کیا پرواہ کرتا ہوں۔تم میری طرف سوئی اٹھاؤ گے تو میں تمہیں اٹھا کر زمین پر دے ماروں گا۔غرض اس فقرہ کے کہ میں اللہ کے سوا اور کسی سے نہیں ڈرتا وہ معنے نہیں جو میں نے ابھی بیان کئے ہیں۔لغوی لحاظ سے بھی خوف کا لفظ جب اللہ تعالیٰ کے لئے استعمال کیا جائے تو اس کے معنی یہ ہوتے ہیں۔مفردات راغب میں ہے۔يُرَادُ به الْكَقُ عَنِ الْمَعَاصِي وَاخْتِيَارُ الطَّاعَاتِ کہ جب یہ کہا جائے کہ میں اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتا یا جب یہ سمجھا جائے اور دل میں یہ خیال پیدا ہو کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ توفیق دی ہے کہ میرے دل میں اس کا خوف اور اس کی خشیت پیدا ہوگئی ہے۔تو اس کے یہ معنے ہوتے ہیں کہ میرے دل میں ایسی کیفیات پیدا ہوگئی ہیں۔ایسے جذبات پیدا ہو گئے ہیں ایسی قوت پیدا ہوگئی ہے کہ میں ان چیزوں سے پر ہیز کرنے والا ہوں جو اللہ تعالیٰ کو ناراض کرتی ہیں اور ان راہوں کو اختیار کرنے کی اللہ تعالیٰ سے تو فیق پاتا ہوں جن سے وہ خوش ہوتا ہے۔یہ معنی ہیں لغوی لحاظ سے لفظ خوف کے۔غرض جب ہم غیر مسلم اقوام کو ( وہ عیسائی ہوں یاد ہر یہ ہوں یالا مذہب ہوں یا بدھ مذہب ہوں ) یہ کہتے ہیں کہ تم اپنے رب کی طرف رجوع کرو اور اس سے ڈرو تو اس سے ہماری یہ مراد ہوتی ہے کہ تم ہر اس کام سے بچو جس کو وہ پسند نہیں کرتا اور ہر اس کام کے کرنے کی کوشش کرو جس کے متعلق وہ چاہتا ہے کہ تم کر ولیعنی نیکیوں کے کرنے کی