مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 556
د مشعل راه جلد دوم فرموده ۱۹۸۱ء 556 حسبك الله ومن اتبعك من المومنین (الانفال آیت ۶۵) کہ تیرے لئے وہ مومن کافی ہیں جو تیری کامل اتباع کرتے ہوئے خدا تعالیٰ کی وحی پر پورا عمل کرنے والے الله جن راہوں پر محمد ﷺ کے نقش قدم ہیں اور ان نقوش قدم کو دیکھ کر ان راہوں کو اختیار کر کے اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل کرنے والے ہیں۔کامل متبعین۔خدا تعالیٰ کے حکم سے آنحضرت ﷺ نے فرمایا تھا۔ان اتب الا مايوحى الى خدا تعالیٰ کی وحی کو ہی سب کچھ سمجھنے والے اور اس سے باہر کسی چیز کی احتیاج نہ رکھنے والے۔ایسا بننا چاہئے منتظمین کو بھی۔دعاؤں کے ساتھ۔آپ اپنا پروگرام بناتے ہیں۔اس میں برکتیں بھی پڑسکتی ہیں اور برکتیں نہیں بھی پڑسکتیں۔دعائیں کریں گے تو بابرکت ہو جائیں گے۔دعائیں کریں گے آپ کے منہ سے نکلا ہوا ایک فقرہ دنیا میں ایک انقلاب عظیم بپا کر دے گا۔مثال دیتا ہوں۔میں تو بڑا عاجز بندہ ہوں۔اللہ تعالیٰ بڑا فضل کرنے والا ہے۔پچھلے سال ہی دورے پر میرے منہ سے یہ فقرہ نکلوایا کہ :- Love For All Hatred For None ہر ایک سے پیار کرو کسی سے نفرت نہ کرو۔اتنا اثر کیا۔اس فقرے نے کہ ابھی مہینہ ڈیڑھ مہینہ ہوا ہالینڈ میں ہمارا سالانہ جلسہ ہوا ہیگ میں ہماری مسجد اور مشن ہاؤس ہے وہاں کے میئر کو انہوں نے بلایا۔وہ آئے۔میئر کی ان ملکوں میں بڑی پوزیشن ہوتی ہے اور انہوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ میں تم احمدیوں سے یہ درخواست کرتا ہوں کہ تمہارے امام نے جو تمہیں سلوگن دیا تھا کہ Love for all hatred for none کہ ہر ایک سے پیار کرو دیا نفرت کسی سے نہ کرو میں تم سے یہ درخواست کرتا ہوں کہ تم ہالینڈ کے گھر گھر میں یہ فقرہ پہنچا دو کیونکہ ہمیں اس کی ضرورت ہے۔ایک فقرہ انقلاب پیدا کر سکتا ہے۔ایک گھنٹے کی تقریر سوکھے گھاس کی طرح ہاتھ سے چھوڑ وزمین پر گر جائیے گی۔جب تک خدا تعالیٰ کا فضل شامل حال نہ ہو انسان کامیاب نہیں ہوتا۔اللہ تعالیٰ سے ہدایت مانگتے ہوئے منتظمین ان اجتماعات کا انتظام کریں اور خدا تعالیٰ کا فضل اور رحمت مانگتے ہوئے شامل ہونے والے ان میں شامل ہوں تا کہ ہم اپنی زندگیوں کے مقصد کو پانے والے ہوں۔آمین اس بات کی ذمہ داری کی ہر جماعت سے چھوٹی ہو یا بڑی نمائندہ ان اجتماعات میں آئے سوائے اس کے کہ بعض اکا دُکا استثنائی طور پر ایسی جماعتیں ہیں جس میں سارے ہی خدام ہیں بڑی عمر کا وہاں کوئی نہیں۔نئی جماعت بن گئی نو جوانوں کی۔وہاں سے کوئی انصار اللہ کے اجتماع میں ممبر کی حیثیت سے نہیں آئے گا۔بعض ایسے ہو سکتے ہیں کہ جو دو چار وہاں بڑی عمر کے ہیں اور ابھی خدام الاحمدیہ کی عمر کا کوئی نہیں۔اطفال اور ناصرات کی عمر کے تو یقینا ہوں گے وہ کوشش کریں جن کی نمائندگی ہوسکتی ہے۔وہ ہو جائے۔ہر جماعت کی نمائندگی اپنے اپنے اجتماع میں ہونی چاہیئے۔اس کی ذمہ داری ایک تو خودان تنظیموں پر ہے۔لیکن اس کے علاوہ تمام اضلاع کے امراء کی میں ذمہ داری لگاتا ہوں اور تمام اضلاع میں کام کرنے والے مربیوں اور معلموں کی یہ ذمہ داری لگاتا ہوں