مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 544
د و مشعل راه جلد دوم فرموده ۱۹۸۱ء 544 خدام الاحمد یہ مرکزیہ کے زیرا ہتمام ہونے والی تربیتی کلاس سے سید نا حضرت خلیفہ امسح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے نے مئی ۱۹۸۱ ء بعد نماز عصر ایوان محمود میں جو اختتامی خطاب فرمایا اس کا مکمل متن ذیل میں درج کیا جاتا ہے۔تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا: - مجھے افسوس ہے کہ جو چودہ دن آپ نے اس تربیتی کلاس کے لئے ربوہ میں گزارے ان ایام میں میں ربوہ سے غیر حاضر رہا۔ایک وجہ تو یہ تھی کہ جو سفر ایک لمبا سفر قریباً چار ماہ کا میں نے تین براعظم میں اشاعت اسلام کے لئے کیا واپسی پر اجتماعات آگئے ، پھر جلسہ آ گیا، پھر دوسرے ضروری کام۔تو اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ میں باوجود کوشش کے ایک دن بھی آرام کے لئے نہیں نکال سکا اور اس کا اثر میری قوت اور طاقت پر پڑنا تھا اور میں نے کمزوری محسوس کی اور خصوصاً اس وجہ سے کی مجھے گردوں کی انفیکشن کی تکلیف ۲۵ مارچ ۸۰ء کو ہوئی اور تیرہ مہینے وقفے وقفے کے بعد لیکن لمبا عرصہ دوائی کھانے میں گزارا۔اینٹی بائیوٹک اور سلفر ہمارے ڈاکٹر دیتے رہے۔تیرہ مہینے کے بعد میرے لئے فیصلہ کرنا مشکل ہو گیا کہ میری بیماری میرے جسم میں ضعف پیدا کر رہی ہے یا ڈاکٹروں کی دوائیں مجھے کمزور کر رہی ہیں۔تو تیرہ مہینے کے بعد میں نے بغاوت کی ان ادویہ کے خلاف اور چھوڑ دیں ڈاکٹروں کی ہدایت کے باوجود اور یہاں سے میں چلا گیا بظاہر آرام کرنے کے لئے مگر میرا آرام بھی اسی طرح کا ہوتا ہے کہ میں جب اسلام آباد پہنچا تو میں نے جماعت سے کہا، تین دن میرے آرام کے ہیں میں کسی سے ملاقات وغیرہ نہیں کروں گا۔اور وہ تین دن اس ڈاک کے دیکھنے میں لگ گئے جو بیماری کی وجہ سے Arear میں پڑی ہوئی تھی۔مجھے آرام مل گیا اس لئے کہ میرا دماغ جو یہ کوفت محسوس کر رہا تھا کہ کچھ ڈاک دیکھنی رہتی ہے وہ کوفت نہیں رہی باقی۔بہر حال آب و ہوا بدلنے سے فائدہ ہوتا ہے اور دوا چھوڑنے اور جگہ چھوڑنے کے نتیجہ میں میں نے محسوس کیا کہ میری صحت عود کر رہی ہے اور میری طاقت بڑھ رہی ہے اور مجھے نقصان نہیں پہنچا۔اللہ تعالیٰ نے فضل کیا۔اس کے فضل نے مجھے کافی حد تک بغیر ان ادویہ کے صحت عطا کر دی۔میں کہتا ہوں بغیر ان ادویہ کے اس لئے کہ دوائی تو انسان کو ضرور کھانی چاہیئے ورنہ ناشکری ہے کیونکہ ادویہ بھی اللہ تعالیٰ نے ہی پیدا کی ہیں۔یہ دن آپ کے یہاں گزرے میرے وہاں گزرے۔آج ایسا ہوا خدا کا کرنا کہ میں اچانک یہاں پہنچ گیا۔سارا دن گرمی کا سفر کرتے ہوئے اور وہیں سے میں نے اطلاع دی تھی کہ اگر میں پانچ بجے سے پہلے پہنچ جاؤں تو شاید پانچ بجے آجاؤں گا یہاں۔اپنے چھوٹے بچوں ، بھائیوں سے ملاقات کروں گا کچھ تھوڑی سی تو ہو جائے گی ملاقات۔الحمدللہ ثم الحمد للہ وہ ملاقات ہوگئی۔