مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 535
535 فرموده۰ ۱۹۸ء د و مشعل راه جلد دوم دو تحصیل علم کی اہمیت اسی طرح عظیم پیشگوئی ہے بہت عظیم یعنی چودہ سو سال پہلے یا چودہویں صدی کے شروع سے بات کریں تو تیرہ سو سال پہلے حال یہ تھا کہ مدینہ میں مسلمان قرآن کے عاشق ، ان کو چھپا ہوا قرآن کریم نہیں ملتا تھا۔بڑی مشکل میں تھے۔اس واسطے جب ایران نے چھیڑ چھاڑ کی اور غیر ملکوں کے ساتھ جنگ ہوئی تو بعض قیدیوں کو اس شرط پر جلد چھوڑنے کا وعدہ دے دیا گیا کہ وہ مسلمان بچوں کو لکھنا سکھا دیں گے۔اتنی اہمیت دی گئی تحصیل علم کو۔ن والقلم وما يسطرون (القلم:۲) پہلے تو صرف ہاتھ ہی سے لکھا جاتا تھا مگر قرآن عظیم کا مسلمان کے دل میں اتنا پیار پیدا کر دیا گیا کہ ہندوستان کے بعض بادشاہ ایسے گزرے ہیں جو بادشاہت کے ساتھ قرآن کریم کو اپنے ہاتھ سے لکھتے تھے بڑے خوبصورت خط کیساتھ اور پیسہ تھا ان کے پاس سنہری روشنائی سے لکھتے تھے۔بہر حال بڑا پیار تھا ان کو۔ہاتھ کے لکھے ہوئے نسخے میرے پاس بھی پڑے ہیں کچھ۔قرآن کریم ہاتھ سے لکھ رہے ہیں کوئی نسخہ چار سال میں لکھا گیا۔کسی پر کم وقت خرج آیا۔کجا وہ دن اور اب قرآن کریم کی اشاعت کا زمانہ آیا تو اب یہ حال ہے کہ امریکہ میں جب ہم نے قرآن کریم کا انگریزی ترجمہ شائع کرنا چاہا تو جس فرم کے ساتھ بات ہورہی تھی اس سے سب باتیں طے ہوگئیں تو میرا خیال ہے کہ انہوں نے دو ہفتے یا تین ہفتے میں ہیں ہزار قرآن کریم کے نسخے ہمارے ہاتھ میں پکڑا دیئے۔یعنی اتناترقی کر گیا ہے زمانہ۔اور جو خدا تعالیٰ نے میرے دماغ میں ڈالا تھا کہ ملنیز (Millions) کی تعداد میں (ملین کہتے ہیں دس لاکھ کو ) قرآن کریم کے تراجم دنیا میں پھیلائے جائیں اس وقت سوچتے تھے کہ کس طرح چھپیں گے اتنے اور اب اس تجربے نے بتادیا کہ انسان چودہویں صدی میں اس مقام تک واذا الصحف نشرت (التکویر:1) کی پیشگوئی کے مطابق پہنچ چکا ہے کہ وہ قرآن کریم کی اس قسم کی خدمت بجالائے ، بجالا سکے۔بیسیوں پیش گوئیاں ہیں بڑی عظمتوں والی۔کہا گیا تھا واذا الوحوش حشرت (التکویر : 1) وحشی قوموں کو متمدن بنایا جائے گا چودہویں صدی میں۔وہ وحشی قومیں افریقہ کی جن پر اس سے قبل ظلم ہورہا تھا امریکن ان کو غلام بنا کے لے گیا اور وہ غلام جو ہیں آج وہ متمدن ہو کے سب سے زیادہ عزت والے مقام پر نظر آتے ہیں۔واشنگٹن کا مئیر ہے مثلاً اور وہ آج کل افریقہ سے جو آئے ہوئے تھے غلام ان کی نسل سے ہے واذا الوحوش حشرت (التکویرآیت:۲) وحشیوں کو متمدن بنا دیا جائے گا۔وحشی کو پڑھا لکھا کر مہذب بنادیا گیا۔اگر وہ وحشی رہتے تو ان کو اسلام سکھا نا زیادہ مشکل ہوتا بجائے اس کے اب وہ متمدن ہیں اور سمجھدار ہیں اور پڑھے لکھے ہیں اور دل رکھتے اور ہمت والے ہیں اور ان کو اسلام سکھانا اب مشکل نہیں رہا۔اب یہ حال ہے وہاں کئی ہزار احمدی ہو چکا ہے۔چودہویں صدی میں اور سینکڑوں عورتیں وہاں کی برقع پہن کے نقاب اوڑھ کے سارے کام کر رہی ہیں۔اپنے کام میں حرج نہیں ہونے دیا۔ان کو سمجھایا گیا تھا کہ اسلامی تعلیم کام میں حارج نہیں۔برقع نہیں کام میں حارج۔۷۶ء میں گیا تو ایک بڑی سادہ سی احمدی بہن کہنے لگی کہ میں فلاں تاریخ کو پریذیڈنٹ سے مل کر اس کے