مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 533 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 533

533 فرموده ۱۹۸۰ء د و مشعل راه جلد دوم دد طالبعلموں کو وظائف دینے کے لئے سامان تھے اور ہر طرف برٹش ایمپائر کا اونچا نام تھا اور پادری کے ہاتھ میں خداوند یسوع مسیح کا جھنڈا تھا اور وہ اسے بڑے جوش وخروش سے لہرا رہے تھے۔اسی زمانہ میں اس حد تک پہنچے کہ انہوں نے اعلان کیا کہ وہ زمانہ عنقریب آنے والا ہے جب مکہ پر خداوند یسوع مسیح کا جھنڈا لہرائے گا۔اور جھوٹی خوشیوں سے معمور، فخر سے گردنیں تانے ہوئے ، بڑے جوش کے ساتھ بڑھتے ہوئے وہ چودہویں صدی میں جب داخل ہوئے تو ان کے سامنے محمد ﷺ جو خدا تعالیٰ کے ایک زبر دست جلالی جرنیل تھے ان کا ایک شاگرد اور روحانی فرزند کھڑا تھا جس نے کہا بس آگے نہیں بڑھنا ( نعرے) یہ دیکھا چودہویں صدی نے اپنی ابتدا میں۔چودہویں صدی اور اسلام کا عروج و زوال۔الله پھر چودہویں صدی نے جہاں ذلتیں دیکھیں اسلام کی جہاں تنزل دیکھا اسلام کا ( ہماری اپنی غلطیاں تھیں کوتا ہیاں تھیں وہ بھی ہم نے دیکھنا تھا) وہاں نبی اکرم ﷺ کی تیرہ صد سالہ پہلے کی عظیم پیشگوئیاں پوری ہوتے دیکھیں ایک نہیں دو نہیں بلکہ یہ زمانہ ان عظمتوں سے بھر پور دیکھا۔اس صدی نے اسلام کا ضعف بھی دیکھا۔اس صدی نے اسلام کی عظمت اور جلال بھی دیکھا۔اس صدی نے اذا الشمس كورت (التکویر:۲) محمد ﷺ جوحقیقی سورج تھے اس عالمین کے ( یہ ہمارا سورج تو اس کے مقابلے میں کچھ چیز نہیں ہے ) ان کے اوپر غفلتوں کا اور عدم شناخت کا پردہ بھی دیکھا اوراس محمد اللہ کی عظمتوں کے نشان بھی دیکھے (نعرے)۔واذا النجوم انکدرت (التکویر: ۳) اس صدی نے ان کو جن کے ذمے یہ سمجھا جاتا تھا کہ دین کو زندہ رکھنا ہے اور سنت نبوی کو قائم رکھنا ہے ان کو اس طرح آسمان رفعت اسلام سے گرتے دیکھا جس طرح بعض راتوں میں آپ تارے ٹوٹتے دیکھتے ہیں۔اور اسی زمانہ میں اسلام کے علم کلام میں وہ رفعت اور بلندی اور عظمت پیدا ہوئی محمد اللہ کی قوت قدسیہ کے نتیجہ میں کہ مثلاً کیتھولزم (Catholicisom) کیتھولیک جو فرقہ ہے یہ عیسائیوں میں سب سے مضبوط ، سب سے امیر، سب سے پھیلا ہوا، سب سے منتظم سب سے طاقتور ہے اور سمجھتا ہے کہ ہم بڑے فہیم ، بڑے زور آور ہیں، انہیں اپنے ماننے والوں کو یہ ہدایت دینی پڑی کہ نہ کسی احمدی سے تم نے بات کرنی ہے نہ ان سے کوئی رسالہ وغیرہ لے کر پڑھنا ہے۔(نعرے) جہاں مغرور کو بلندی سے گرتے پایا، وہاں ایک طفل احمدیت کو رفعتیں حاصل کرتے ہوئے دیکھا۔ہمارا ایک بچہ مشرقی افریقہ میں تھا اس کی زندگی میں برکت ڈالے۔بچپن سے ہی اسے شوق تھا تبلیغ کا اور اتوار کو وہ چھوٹے چھوٹے رسالے لے کے سڑک کی پیومنٹ (Pavement) پر کھڑا ہو جاتا اور جس شخص کے متعلق اندازہ لگا تا کہ یہ پڑھنا لکھنا جانتا ہے اس کے ہاتھ میں کوئی رسالہ دے دیتا۔ایک دن اس نے دیکھا کہ امیرانہ لباس پہنے ایک افریقین پاس سے گزر رہا ہے۔اس نے اس کے ہاتھ میں رسالہ دیا۔اس نے بڑی خوشی سے اس کو لیا اور چلتے ہوئے اس کو کھول کے پڑھنا بھی شروع کیا۔چند قدم آگے جانے کے بعد واپس آیا اور کہا یہ لو