مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 519
519 فرموده ۱۹۷۹ء دو مشعل راه جلد دوم گئیں۔میرا خدا سے تعلق پیدا ہو گیا مجھے یہ پھل ملا ہے اسلام لانے کا۔یہ تبدیلی آپ بھی پیدا کر سکتے ہیں۔آپ کو کرنی چاہئے کوئی احمدی کھڑے ہو کر یہ نہیں کہہ سکتا کہ نوع انسانی جائے جہنم میں۔مجھے کیا۔نوع انسانی نے جہنم میں نہیں جانا۔کیونکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان کیا تھا کہ میرا فدائی میرا ایک غلام ایسا پیدا ہو گا جو اسلام کو ساری دنیا میں غالب کرے گا۔اس کو ماننے والے ہیں آپ۔اتنا بڑا گناہ ہے شرک۔مگر پھر بھی مشرک کے جذبات کا بھی خیال رکھا گیا۔قرآن نے کہا مشرک کے جذبات کو بھی ٹھیس نہیں لگانی تم نے۔لَا تَسُبُّوا الَّذِينَ يَدْعُونَ مِنْ دُونِ الله (الانعام: ۱۰۹) جو بتوں کی پرستش کرنے والے ہیں تم نے ان کو بُرے ناموں سے یاد نہیں کرنا۔گالی دو گے جذبات کو ٹھیس لگے گی۔بت کو بھی برانہیں کہنا کیونکہ بت پرست کو اس سے تکلیف پہنچے گی۔اب جو پتھر کا بت ،لکڑی کا بت، ہاتھی دانت کا بت ، تانبے اور پیتل کا بت اور خدا جانے کس کس چیز کا بت ، آٹے کا بت بنا دیا انہوں نے۔گالی آپ دیں گے بت کے تو کان نہیں نہ وہ سنتا ہے نہ سمجھ سکتا ہے نہ اسے کوئی تکلیف ہو سکتی ہے جب منع کیا گیا کہ لَا تَسُبُّوا الَّذِينَ يَدْعُونَ مِن دُونِ الله تو مراد یہ تھی کہ جو بت کی پرستش کرنے والا ہے اس کے جذبات کو ٹھیس نہیں پہنچانی۔اس قدر جذبات، احساسات کا خیال رکھنے والا مذہب ہے۔یہ ہے اسلام۔یہ ہے اسلام کی تعلیم کہ دوسروں کے حقوق کا خیال رکھنا ایک حق خدا تعالیٰ نے یہ قائم کر دیا اسلام میں کہ ہر انسان کے جذبات واحساسات کا خیال رکھا جائے گا یہ اس کا حق ہے۔اور کوئی شخص خواہ وہ خدا تعالیٰ کا سب سے پیارا ہو وہ مشرک کے جذبات کو ٹھیس نہیں لگائے گا۔اس کے جذبات کو ٹھو کر نہیں۔کیونکہ لَا تَسُبُّوا الَّذِينَ يَدْعُونَ کا جو حکم ہے اس کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے الہاما قرآن کریم میں یہ اعلان کیا۔اَنَا اَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ (الانعام : ۱۶۴) کہ سب سے پہلے اس حکم پر میں عمل کرنے والا ہوں۔محمد صلی اللہ علیہ وسلم تو حید کو قائم کرنے کیلئے آئے اور آپ نے یہ اعلان بھی کیا کہ اس حکم پر سب سے پہلے۔سب سے زیادہ میں عمل کرنے والا ہوں۔مشرک کے جذبات کو بھی میں ٹھیس نہیں لگاؤں گا۔ہر حکم جو اسلام نے دیا وہ کوئی نہ کوئی حق ہے انسان کا جسے قرآن قائم کرتا اور اس کی حفاظت کرتا ہے اس حکم کے ساتھ اور ہر نبی یعنی ہر وہ حکم جس میں روکا گیا ہے کہ یہ نہ کرو کسی نہ کسی حق کو اس کا کرنا نقصان پہنچانے والا تھا۔حق تلفی کرنے والا تھا۔اس سے روک دیا گیا۔حق تلفی نہیں کرنی۔مثلا ہر شخص کی عزت قائم رکھنا ضروری ہے۔اس واسطے یہ کہا گیا۔افتراء سے کام نہیں لینا یہ نہیں کہا گیا کہ مسلمان پر افتراء نہیں کرنا۔کسی انسان پر بھی افتراء نہیں کرنا۔عزت و احترام کو قائم کیا۔عزت و احترام کو اس قدر تاکید سے قائم کیا۔محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی مثال ہمارے سامنے ہے۔قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرِ مِثْلُكُمْ (الکہف: 1) اعلان کر دو دنیا میں نوع انسانی کے کانوں میں یہ بات جا کے کہو کہ بشر ہونے کے لحاظ سے مجھ میں اور تم میں کوئی فرق نہیں۔اس شخص کی زبان سے یہ اعلان کروایا جس کے متعلق کہا گیا تھا لو لَاكَ لَمَا خَلَقْتُ الافلاک۔یہ کائنات تیری وجہ سے ہم نے پیدا کی ہے تجھے پیدا نہ کرنا