مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 515 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 515

515 فرموده ۱۹۷۹ء دد دو مشعل راه جلد دوم اس چھوٹے سے قصبہ میں لاکھ ڈیڑھ لاکھ انسان جمع ہو جاتے ہیں یہاں کی آبادی ملا کے۔مرد بھی ہوتے ہیں عورتیں بھی ہوتی ہیں بچے بھی ہوتے ہیں۔بوڑھے بھی ہوتے ہیں۔یہاں ہمارا جو معاشرہ ہے اللہ کے فضل سے اس وقت تک یہ حال ہے۔اور خدا کرے کہ قیامت تک ہمارے مرکز کا یہی حال رہے شائد آپ یہ محسوس نہیں کرتے کیونکہ آپ کو عادت پڑ گئی ہے۔مگر بیرون پاکستان سے آنے والے احمدی یا عیسائی یا دوسرے لوگ جو بھی آتے ہیں وہ حیران ہوتے ہیں کہ سڑک کے ایک طرف عورتیں جارہی ہیں دوسری طرف مرد جارہے ہیں اور کوئی مرد آنکھ اٹھا کے نہیں دیکھ رہا کہ ہمارے دوسری طرف سڑک کے کس قسم کی مخلوق ہے جو چل رہی ہے۔کوئی آوازہ نہیں کسا جاتا ہے دنیا کے سارے ممالک میں سوائے ربوہ کے آپ کو یہ نظارہ نظر آ جاتا ہے راہ چلتی لڑکی کو چھیڑ نے کا نظارہ کہیں زیادہ کہیں کم۔کہیں عیسائیوں کے علاقے ہیں جہاں کم نظر آتا ہے کہیں دہریوں کے علاقے ہیں جہاں کم نظر آتا ہے کہیں عیسائیوں کے اور دہریوں کے علاقے ہیں۔جہاں یہ نظارہ زیادہ نظر آتا ہے لیکن صرف یہ ایک مقام ہے کہ جس میں کوئی واقعہ ایسا نہیں ہوتا کہ کسی لڑکی یا عورت پر آوازہ کسا گیا ہو۔سوائے اس کے کہ بعض دفعہ غیر تربیت یافتہ غیر احمدی باہر سے آجاتا ہے اور وہ اپنی عادت سے مجبور ہو کر پوری طرح ہماری فضاء کے دباؤ کے نیچے نہیں آتا اور منہ سے اس کے اس قسم کی بات نکلتی ہے لیکن چند منٹ کے اندر ہی اس کو احساس ہو جاتا ہے کہ اُس نے غلطی کی اور اس کو معافی مانگنی پڑتی ہے۔تو یہ معاشرے کا کام ہے اور یہ ہر احمدی کا کام ہے کہ ایسا معاشرہ پیدا ہوا ایسی فضا پیدا ہو کہ جو اخلاقی اقدار اسلام قائم کرنا چاہتا ہے وہ دنیا میں قائم ہوں اور اتنا حسن پیدا ہو جائے اتنا سکون پیدا ہو جائے ذہنی طور پر اور اتنا امن پیدا ہو جائے علاقے میں اگر یہ اسلامی معاشرہ قائم ہو جائے۔اغوا ہے بچوں کا۔بڑی سخت لعنت ہے۔اور لیکن یہاں میرے علم میں تو نہیں کوئی واردات اگر کوئی ہوئی ہے تو اس میں ہم ملوث نہیں۔باہر سے آیا ہوا کوئی Gang گینگ ہوتو ہو۔ہمیں اپنے وطن سے بڑا پیار ہے یہ بات بھی میں واضح کر دوں کہ اس قسم کی گندی باتیں جو ہیں ہزار میں ۹۹۹ پاکستان کے شہری شریف ہیں اور ان میں ملوث نہیں۔اور ان چیزوں کو پسند نہیں کرتے اس قسم کے گندے افعال کو برا سمجھتے ہیں اور اسلامی اقدار پیدا کرنا چاہتے ہیں لیکن میں بعض دفعہ مذاق میں کہا کرتا ہوں کہ ہماری شرافت گونگی ہے بولتی نہیں جہاں بولنا چاہئے۔اگر ہماری شرافت کو زبان مل جائے تو اسلامی اقدار ہمارے معاشرہ میں بہت جلد پیدا ہو جائیں اور ہمارا تعلق تو صرف اپنے ملک سے ہی نہیں۔حب الوطن من الایمان اپنے وطن سے بڑا پیار ہے ہمیں اور ہر نیک قدم جو ہم اٹھائیں گے اس کے اچھے اثرات سب سے پہلے ہمارے ملک میں ہی ظاہر ہونگے لیکن میرے مخاطب ساری دنیا کے احمدی اور میرا مسئلہ ساری دنیا کا مسئلہ ہے خواہ وہ دہر یہ ملک ہو یا عیسائی ملک ہو یا بدھ مذہب ہو (افریقہ میں بعض علاقے ایسے ہیں) بہر حال وقت آ گیا ہے کہ کوئی گروہ انسانوں میں سے اسلامی اقدار کو قائم کرنے کا