مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 510
د د مشعل راه جلد دوم فرموده ۱۹۷۹ء 510 ایک مسلمان کی بنیادی خصوصیت پس ایک مسلمان کی بنیادی خصوصیت یہ ہے کہ وہ حنیف بھی ہوا اور مسلم بھی ہو۔خدا تعالیٰ کے حضور ہر آن عاجزانہ جھکنے والا بھی ہو اور خدا تعالیٰ کی کامل اطاعت کرنے کی کوشش کرنے والا بھی ہو۔یہ دونوں باتیں ہزار ہا پہلو اپنے اندر رکھتی ہیں۔ایک ایسا درخت ہیں جس کی ہزار ہا شاخیں ہیں۔بعض پہلو ایسے ہیں جو ہم خدام الاحمدیہ میں نمایاں دیکھنا چاہتے ہیں۔بعض پہلو ایسے ہیں جو ہم انصار اللہ کے نام سے جو جماعت موسوم ہے ان میں دیکھنا چاہتے ہیں۔ہر دو پہلو کا تعلق جیسا کہ قرآن کریم نے ہمیں بتایا اس حقیقت سے باندھا گیا ہے، وابستہ کیا گیا ہے کہ بنی نوع انسان کی خیر خواہی اور خدمت کرنی ہے اور نوع انسانی کے سکھ کا سامان پیدا کرنا، اُن کے دکھوں کو دور کر کے۔یہ ذمہ داری ڈالی گئی ہے اُمت مسلمہ پر کنتم خير امة اخرجت للناس کے اعلان میں۔خدام الاحمدیہ اور خدمت خدمت، خدام الاحمدیہ کا نام بھی یہ ذمہ داری بتاتا ہے، بہترین خدمت انسان دعا کے ذریعہ سے نوع انسانی کی کر سکتا ہے۔انسان یا انسانوں کی کوئی جماعت اپنے طور پر کس قسم کی کوئی طاقت نہیں رکھتی جب تک اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے اُن کو تو فیق عطا نہ کرے اور دنیا میں کوئی تبدیلی رونما ہو نہیں سکتی جب تک خدا تعالیٰ اپنے فضل سے اپنی منشاء کے مطابق خیر کی تبدیلی رونما کرنے کے سامان پیدا نہ کرے۔اس واسطے سب سے کارگر اور مؤثر حربہ ہتھیار جو ایک مسلمان کو دیا گیا ، وہ (ایٹم بم نہیں ) دعا کا ہتھیار ہے اور اس سے زیادہ کارگر اور ہتھیار نہیں اور دوسرے نمبر پر جو ہتھیار دیا گیا ہے وہ ( ہائیڈ روجن بم کا ہتھیار نہیں یا اس سے بھی مہلک ہتھیار ہے ) بلکہ محبت اور شفقت، بے لوث خدمت اور لعلک باخع نفسک کا کی جو کیفیت بیان کی گئی ہے وہ کیفیت سنت نبوی کی پیروی کرتے ہوئے اپنے اندر پیدا کرنا، اس سے تعلق رکھتی ہے۔بعض پہلو ایسے ہیں جو خدام الاحمدیہ سے تعلق رکھنے والے ہیں۔بعض پہلو ایسے ہیں جو انصار اللہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ان اغراض کو سامنے رکھ کے بار بار یاد دہانی کرانے کیلئے یہ اجتماع ہر سال ہوتے ہیں۔جماعت دعا کرے جیسا کہ میں نے شروع میں دعا کی کہ اللہ سب خیر رکھے اور خیر سے یہ اجتماع منعقد ہوں اور خدا تعالیٰ جس مقصد کیلئے یہ اجتماع منعقد ہوتے ہیں اس مقصد کے حصول کے سامان پیدا کرے اور ہر جماعت کو یہ توفیق عطا کرے کہ وہ اس میں حصہ لینے والی ہو اور امرائے اضلاع اور مربیان کو اور خدام الاحمدیہ اور انصار اللہ کے عہدیداروں کو اللہ تعالیٰ ہمت عطا کرے کہ وہ اس بات میں کامیاب ہوں کہ کوئی جماعت ایسی نہ رہے جس کا نمائندہ نہ آیا ہو۔اگر ہم اس میں کامیاب ہو جائیں پھر آئندہ سال پہلے کی نسبت زیادہ جماعتوں کی نمائندگی ہوگی۔اس لئے کہ ہر سال نئی جماعتیں بن جاتی ہیں اور پھر ایسے سامان پیدا ہوں خدا کرے کہ زیادہ سے زیادہ نئی جماعتیں بنیں۔زیادہ سے زیادہ نئی جماعتوں کے نمائندے ہوں