مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 494
فرموده ۱۹۷۸ء د و مشعل راه جلد دوم ہو گئے تھے۔ان کی گردنیں جھکی رہتی تھیں اس لئے ان کو ابھارنے کا سوال تھا۔چنانچہ ان کو یہ حکم دیا کہ جزاء سيئة سيئة مثلها 494 تاہم یہ ایک عارضی نظام تھا مستقل نظام تو قرآنی شریعت نے بنی نوع انسان کو دیا ہے۔پھر جب یہود کی حالت بدل گئی تو وہ بڑے Aggressive بن گئے یعنی ہر وقت آمادہ پر کار بن کر دوسری انتہاء پر چلے گئے تو اس وقت حضرت مسیح علیہ السلام کی بعثت ہوئی۔آپ نے قرآنی تعلیم کے دوسرے حصے یعنی فمن عفا واصلح فاجرہ علی اللہ پر زور دیا جس کا عملی نمونہ ایک گال پر تھپڑ کھا کر دوسرا بھی آگے کر دینے کی صورت میں ظاہر ہوا۔گویا یہ تعلیم بھی بگڑ گئی اور عیسائیت دوسری انتہاء پر چلی گئی۔ان دونوں کو ملا دیں تو وہ بہر حال قرآن کریم کی صداقت بن جاتی ہے۔پس ہمارا یہ ایمان ہے کہ محمد رسول اللہ علہ آدم کی پیدائش سے بھی پہلے خاتم الانبیاء تھے اور ہمارا یہ ایمان ہے کہ تمام انبیاء اور صلحاء اور اولیاء اور بزرگ جو آنحضرت ﷺ سے پہلے گزرے ہیں انہوں نے تمام روحانی برکات آپ ہی کے طفیل حاصل کی ہیں۔بالواسطہ حاصل کیں۔یعنی یہودیوں نے جو تو رات پر ایمان لائے اور ان میں سے جس حصے نے خدا تعالیٰ کے پیار کو حاصل کیا وہ بواسطہ موسیٰ حاصل کیا لیکن قرآن کریم ہی کی تعلیم کے ایک حصے سے برکت حاصل کی اور جو عیسائیت پر بعثت نبوی تک کا زمانہ گزرا اس میں خدا سے پیار کرنے والے بہت سے بزرگ پیدا ہوئے۔انہوں نے خدا کے پیار کو حاصل کیا اس کی رحمتوں کا نزول ہوا جتنا بھی ہوا وہ بہر حال قرآن کریم کے ایک حصے کی برکت سے ہوا گویا یہ برکت بواسطہ مسیح ملی لیکن دراصل آنحضرت ماہ کے طفیل ملی۔یہ ہے حقیقت ہمارے نزدیک ہمارے آدم کے سلسلہ انبیا کی!۔خدائے واحد پر ایمان پس ہمارا پہلا ایمان ہے خدائے واحد و یگانہ پر جو صفات حسنہ سے متصف ہے ، جس کے اسماء الحسنی ہیں جس میں کوئی برائی اور کمی اور نقص اور عیب نہیں پایا جاتا۔وہ ازل سے ہے اور ابد تک ہے۔اس نے کائنات پیدا کی جو بہت ہی وسیع ہے جس میں خدا تعالیٰ کی عظیم شان نظر آتی ہے۔چنانچہ قرآن کریم نے یہ اعلان کیا۔انا زينا السماء الدنيا بزينة الكواكب (اصفت :) بعض دفعہ کوئی آدمی شیطان کا چیلہ بن کر استکبار کرتا ہے لیکن اس کی حیثیت یہ ہے کہ وہ پہلے آسمان سے ستاروں کی کنہ تک بھی نہیں پہنچ سکتا۔اس وقت تک بڑی Sophisticated دور بینیں ایجاد ہو چکی ہیں لیکن ان کے ذریعے بھی انسان ستاروں کے کناروں کو معلوم نہیں کر سکا۔اس قسم کی ریسرچ کرنے والوں کے نزدیک ابھی تو انہوں نے کناروں کو صرف کریدا ہے۔پنجابی میں اسے کہتے ہیں تھوڑا سا پھوریا۔قرآن کریم نے سات آسمانوں کا ذکر کیا ہے جن میں سے پہلے آسمان کے ستاروں کے متعلق انسانی معلومات کا یہ حال ہے کہ ابھی تو