مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 468 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 468

دومشعل کیا ہے۔راه جلد دوم فرموده ۱۹۷۸ء 468 اربوں بیماروں کو طبیب نے نسخہ میں ڈال کر افیم دی اور دنیا کی تاریخ میں ایک مثال بھی نہیں ہے کہ کسی کو اس کی عادت پڑ گئی ہو۔اس لئے کہ جس شکل میں خدا تعالیٰ کی قدرت کاملہ نے اس کو بنایا تھا وہ اس شکل میں اس کو دی گئی۔پھر ان کے سچ اور جھوٹ کا یہ حال ہے کہ انہوں نے تجزیہ کر کے اور اجزاء علیحدہ علیحدہ کر کے ان کا استعمال شروع کر دیا اور مرکب تو ان سے صحیح بن ہی نہیں سکتا تھا جو خدا تعالیٰ نے بنایا تھا بنادیا۔اور یہ صرف میری منطقی یا فلسفیانہ تنقید نہیں ہے بلکہ میں نے لندن میں احمدی ڈاکٹروں کے ساتھ بات کی تو ایک ڈاکٹر میرے پاس ایک رسالہ لے آیا۔کہنے لگا کہ یہ ہر سال میڈیکل ایسوسی ایشن کی طرف سے چھپتا ہے اور ہر سال اس میں ۲۰۱۵ نئی دواؤں کا ذکر ہوتا ہے جو کہ انسان نے تجزیہ کر کے بنائی ہیں اور ۲۰۱۵ ایسی دوائیں ہوتی ہیں جن کی پہلے بڑی تعریف ہوتی رہی ہے اور اب ان کے متعلق یہ نوٹ ہوتا ہے کہ یہ بڑی خراب ہیں، یہ زہر ہیں ان کو ہاتھ نہ لگانا۔ہر سال یہ ہورہا ہے اچھی تم نے ترقی کی ہے کہ ایک سال زہر کھلاتے رہے اور اگلے سال معافی مانگ لی۔خدا تعالیٰ نے تو اعلان کیا تھا اور ہمیں بھی نصیحت کی تھی کہ وضع الميزان ( رحمان: ۸) خدا تعالیٰ نے ہر چیز میں توازن کا اصول قائم کیا ہے الا تطغوا فی المیزان اس اصول کو نہ تو ڑنا۔انہوں نے وہ اصول تو ڑا اور اب اس کی سزا بھگت رہے ہیں۔نئی سے نئی بیماریاں پیدا ہورہی ہیں اور ان کو پتہ ہی نہیں لگ رہا اب انہوں نے ایک اور طریق بنالیا ہے جس بیماری کا پتا نہ لگے کہتے ہیں کہ تمہیں الرجی ہے۔الرجی کے معنی ہوتے ہیں کہ ہمیں نہیں پتا لگ رہا کہ تمہیں کیا بیماری ہے حالانکہ خدا تعالیٰ نے انہیں رستے بتائے تھے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کریم کی تفسیر میں کہا تھا کہ لكل داء دواء پھر سچ اور جھوٹ والی بات یہاں بھی آجاتی ہے۔ایک چیز اچھی ہوتی ہے لیکن چونکہ اس میں نفع نہیں ہوتا کہتے ہیں کہ یہ اچھی نہیں۔ایک بہترین جرم کش دوائی شہد کی مکھی بناتی ہے۔اس میں انسان کا ہاتھ نہیں ہے اس لئے کسی کمپنی کو اس کا فائدہ نہیں۔مکھی بیچاری تو پیسے نہیں لیتی وہ مفت بنادیتی ہے قرآن کریم میں اعلان کیا گیا تھا سخر لكم ما في السموت وما فى الارض جميعا منه (الجاثية: ١٤) شہد کی مکھی کو بھی ہمارا خادم بنایا گیا ہے اور بحیثیت خادم وہ ہمارے لئے دنیا کی جتنی جرم کش دوائیں انسان بنا چکا ( اور جو زہر ہیں اور ان کے غلط استعمال سے لاکھوں آدمی مر چکے ہیں ) ان سے ہزار درجے اچھی دوائی بناتی ہے۔لیکن چونکہ وہ کھی نے بنادی اور اس میں وہ نفع نہیں جو ان کی اپنی بنائی ہوئی گندی ادویہ میں ہے۔اس واسطے کہتے ہیں کہ اس کو ہم دوائی ہی تسلیم نہیں کرتے۔ان میں سے بعض آدمی نکل آتے ہیں جو اس پر تجربے بھی کر رہے ہیں اور یورپ میں ہزاروں آدمیوں پر چھپ چھپ کر تجربہ کیا ہے۔ایک شخص پر کسی نے مقدمہ کر دیا تھا کہ یہ دوائی