مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 462 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 462

فرمودہ ۱۹۷۷ء 462 د دمشعل را ل راه جلد دوم ایسے مسجد سے جو خلیفہ نہیں یعنی اس معنی میں جس کو ہم خلافت راشدہ کہتے ہیں۔حضرت نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ پہلے خلفاء ہوں گے پھر بادشاہت شروع ہو جائے گی اور پھر آخری زمانے میں منہاج نبوت پر خلفاء کا زمانہ آجائے گا اور یہ کہہ کر آپ خاموش ہو گئے۔جس کا مطلب یہ ہے کہ پھر اس کا سلسلہ قیامت تک چلے گا۔یہی مطلب ہم لیتے ہیں کیونکہ یہی مطلب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے لیا ہے۔ایک لحاظ سے محمد اللہ سے فیض حاصل کرنے والا ہر شخص آیت استخلاف کے ماتحت آپ کا نائب ہے اور اسی کو ہم خلیفہ کہتے ہیں اور ایک دوسرے لحاظ سے انبیائے بنی اسرائیل کے مقابلے میں انعامات نبوت حاصل کرنے والے اس سے زیادہ تعداد میں جتنے امت موسویہ میں تھے امت محمدیہ میں وہ خلفاء ہیں۔یہ ایک دوسرا سلسلہ خلافت کا ہے اور ایک تیسر اسلسلہ خلافت کا ہے اور یہ تیسر ا سلسلہ خلافت کا یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا اس سلسلہ خلافت میں اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں گن کر اور شمار کر کے ہمیں بتایا ہے کہ وہ تیرہ خلیفے ہیں۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد تیرہ امت موسویہ یعنی بنی اسرائیل میں اور تیرہ ہی محمد ہے کے بعد امت محمدیہ میں ہوئے اور ان تیرہ سے تیرھواں اور آخری میں ہوں۔اور یہ خلافت کا ایک علیحدہ سلسلہ ہے۔آپ نے فرمایا میں مجددالف آخر ہوں۔میں امام آخر الزماں ہوں۔میں آخری ہزار سال کا آدم ہوں مختلف الفاظ استعمال کر کے آپ نے اپنے مقام کو ظاہر کیا۔پس یہ جو سلسلہ خلافت ہے اس میں تیرہ خلیفے ہیں چودھواں کوئی نہیں۔اس کی گنجائش ہی کوئی نہیں۔ہاں بنی اسرائیل کے انبیاء کے مقابلے میں ہزاروں کی تعداد میں محمد علیہ کے خلفاء آتے رہیں گے۔ان کو انعامات نبوت ملیں گے مقام نبوت ان کو نہیں ملے گا۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے آج اسلام کی جو جنگ لڑی جارہی ہے اس میں اتحاد اور یک جہتی کی ضرورت ہے اس لئے جماعت کے اندر ایک ایسا اتحاد ہونا چاہیئے جس میں انتشار کا شائبہ تک نہ ہو اور جو شیطانی تدبیریں اور منصوبے ہیں ان کے خلاف ایسا منصوبہ اور تدبیر کی جائے جس میں پوری یک جہتی ہو۔یہ نہ ہو کہ کچھ ادھر سے دباؤ پڑ رہا ہو اور کچھ ادھر سے دباؤ پڑ رہا ہو۔اس یک جہتی اور اس اتحاد کو قائم کرنے کیلئے اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے فرمایا کہ تیرے بعد میں ایک ایسا سلسلہ خلافت قائم کر رہا ہوں جو قیامت تک قائم رہے گا ( میں آپ کا کوئی اقتباس نہیں پڑھ رہا۔کم و بیش اپنے الفاظ میں بتارہا ہوں اس لئے ہو سکتا ہے کہ الفاظ میں کچھ فرق پڑ جائے) آپ نے فرمایا میں خدا تعالیٰ کی مجسم قدرت ہوں۔خدا تعالیٰ نے میرے ہاتھ پر اپنی زبر دست قدرت کا مظاہرہ کیا ہے اور یہ کہ میرے بعد خدا تعالیٰ بعض اور وجودوں کے ہاتھ پر اپنی زبر دست قدرت کو ظاہر کرے گا۔اور یہ خدا تعالیٰ کی قدرت نمائی ہے۔یہ خدا تعالیٰ کی شان ہے کہ اسلام کو غالب کرنے کیلئے اس نے ایک نظام قائم کر دیا ہے۔فرمایا ایک زبر دست قدرت جو میرے بعد تمہیں ملنے والی ہے یہ بالا تصال یعنی کسی وقفے کے بغیر قیامت تک تمہارے ساتھ رہے گی۔پھر آپ نے ایک دوسری جگہ فرمایا جب قیامت کا زمانہ آئے گا تو وہ نسل آدم پر قیامت ہے۔ہمارے آدم کی نسل تباہ ہو جائے گی۔