مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 39
39 فرمودہ ۱۹۶۷ء دومشعل راه جلد دوم ۱۳ رمئی ۱۹۶۷ء کو حضرت خلیفہ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالی نے تربیتی کلاس کے اختتام پر جو خطاب فرمایا اس کا متن ذیل میں درج کیا جاتا ہے۔یہ متن غیر مطبوعہ ہے۔تشہد تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا۔تربیتی کلاس کی اہمیت معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے خدام نے اس کلاس کی اہمیت کو پوری طرح سمجھا نہیں۔کیونکہ اس وقت ہماری جماعتیں مغربی پاکستان میں ہی ۹۰۰ سے اوپر ہیں اور میرا خیال ہے کہ ۷۰۰ مقامات پر خدام الاحمدیہ کی مجالس قائم ہیں اور ۷۰۰ مجالس میں سے صرف ۱۴ مجالس کے خدام اس کلاس میں شامل ہوئے ہیں یعنی صرف دو فیصدی مجالس کی نمائندگی اس کلاس میں ہے۔اس موقع پر ناظم صاحب تربیتی کلاس مکرم شفیق قیصر صاحب نے عرض کیا کہ حضور چودہ مجالس نہیں بلکہ ۳۰ مجالس کے خدام کلاس میں شامل ہوئے ہیں۔اس پر حضور نے فرمایا۔اس کا مطلب یہ ہے کہ ۹۶ اور ۹۷ فیصدی مجالس اس کلاس میں شامل نہیں ہوئیں اور صرف ۱۳ اور ۴ فیصدی کے درمیان مجالس کی نمائندگی ہے۔جس کا واضح طور پر یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ ۹۶ یا ۹۷ فیصد مجالس ایسی ہیں کہ جن پر اس کلاس کی اہمیت پورے طور پر واضح نہیں کی گئی اور میں سمجھتا ہوں کہ اس میں خدام الاحمد یہ مرکز یہ کا مجالس کی نسبت زیادہ قصور ہے۔اس نے اس سلسلہ میں زیادہ غفلت برتی ہے۔تدریس کے متعلق ہدایات آئندہ سے ہر کلاس میں مجالس کی نمائندگی مقرر ہونی چاہیئے مثلاً حالات کا جائزہ لے کر مجلس خدام الاحمدیہ مرکز یہ یہ فیصلہ کرے کہ پانچ سال میں تمام مجالس کی اس کلاس میں نمائندگی ہو جانی چاہیئے اور جس کا مطلب یہ ہے کہ ۲۰ فیصدی مجالس اپنے نمائندے اس کلاس میں ضرور بھجوائیں۔یہاں جو کچھ پڑھایا جاتا ہے میں سمجھتا ہوں کہ بڑی محنت سے اور بڑی تیاری کر کے پڑھایا جاتا ہے اور جو خدام اس کلاس میں شامل ہوتے ہیں بظاہر ان میں پڑھنے اور علم سکھنے کا شوق بھی پایا جاتا ہے سوائے عربی زبان کے جس کے سیکھنے کا شوق مجھے کم محسوس ہوا ہے لیکن جو باتیں آپ یہاں سنتے ہیں اور انہیں یاد رکھنے کی کوشش کرتے ہیں وہ پوری طرح یاد نہیں رہ سکتیں۔اس کے لئے