مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 38 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 38

دومشعل دوم 00 فرموده ۱۹۶۶ء 38 ۳۱ اکتوبر۱۹۲۶ء بروز سوموار مکرم صاحبزادہ مرزار فیع احمد صاحب صدر خدام الاحمدیہ مرکزیہ کی الوداعی پارٹی کے موقع پر جو خدام الاحمدیہ مرکز یہ کی مجلس عاملہ کی طرف سے آپ کو دی گئی۔حضرت امام جماعت احمد یہ خلیفہ مسیح الثالث نے مندرجہ ذیل خطاب فرمایا: سب سے قبل تو ہمیشہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے رہنا چاہیئے خصوصاً اس موقع پر میں شکر کے ان جذبات کا اظہار کرنا چاہتا ہوں۔کہ ہم اپنی زندگیوں کے ہرلمحہ میں اپنے رب کی ربوبیت کے مظاہرے دیکھتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے جہاں باہر جسمانی ربوبیت کے سامان پیدا کئے ہیں۔وہاں ہماری روحانی ربوبیت کے سامان بھی پیدا کئے ہیں۔ایک سامان ہمارے لئے یہ پیدا کیا۔کہ حضرت مصلح موعودؓ کے دل میں یہ تڑپ پیدا کی کہ جماعت کے نو جوانوں کو ایک تنظیم میں پروکر ان کی صحیح تربیت کریں۔اور اس نظام کا ایک مضبوط باز و انہیں بنا ئیں۔اور ہمارے دل میں اس تربیت کے نتیجہ میں یہ بات بھی پیدا کی کہ جو شخص جس رنگ میں ہماری کوئی خدمت کرتا ہے۔ہمارے دل میں اس کے لئے شکر کے جذبات ہوں چنانچہ یہ فرض ہے مجلس خدام الاحمدیہ کا جو بھی کوئی ان کا صدرنسی عرصہ میں رہے۔وہ اس کے ممنون اور مشکور ہوں۔کہ ان کی خاطر اس شخص نے بہت سا وقت خرچ کیا اور بہت سی توجہ دی اور میں سمجھتا ہوں کہ بہت سی دعاؤں کیسا تھ ان کی تربیت میں حصہ لیا۔اور سب سے ضروری اور سب سے اہم بات جو میں کہنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی آواز جب بھی اور جس کے ذریعہ بھی ہمارے کانوں تک پہنچے ہمیں فوراً لبیک کہنا چاہیئے اس وقت اللہ تعالیٰ کی آواز ہمارے کان میں یہ پہنچی ہے۔کہ نماز مغرب کا وقت ہو گیا ہے اس لئے میں مختصر دعا کے بعد مسجد کو جاؤں گا دوست بھی دعا کرلیں۔(غیر مطبوعہ )