مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 373 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 373

فرموده ۱۹۷۳ء 373 دد مشعل راه تل راه جلد دوم ہے۔پس جب ہم انسانی تاریخ پر نظر ڈالتے ہیں تو ایک چیز بڑی نمایاں ہو کر ہمارے مشاہدہ میں آتی ہے۔(میں مشاہدہ کی بات کر رہا ہوں اور دینی لحاظ سے میں نے پہلے اس کو لے لیا ہے ) ہمارے مشاہدہ میں یہ چیز آتی ہے کہ کبھی بھی آخر کار نفرت اور تعصب کامیاب نہ ہوا اور نہ ہوتا ہے۔ہمیشہ حسن سلوک اور خدمت اور پیار آخر کار کامیاب ہوتا ہے۔یہ ایک مشاہدہ ہے۔انسانی تاریخ پر نظر ڈالیں حضرت آدم علیہ السلام سے آج تک اس کے الٹ اور مخالف نظر نہیں آتا۔جہاں بھی پیار اور نفرت اور دوستی اور دشمنی کا مقابلہ ہوا وہاں پیارا اور دوستی اور استحصال کے مقابلہ میں خدمت جیتی۔دشمنی اور نفرت اور تعصب اور استحصال کی جتنی بھی کوششیں تھیں وہ نا کام ہوئیں۔روز مرہ زندگی میں بھی ہم ایک مشاہدہ کرتے ہیں۔یہ تو ایک لمبا چوڑا مشاہدہ ہے جس کے لئے میں آپ کو تیار کر رہا ہوں۔اللہ تعالیٰ آپ کو لمبی عمر دے بڑا المبا عرصہ آپ کو اللہ تعالیٰ مشاہدہ کی توفیق دے گا۔آپ تاریخ دیکھیں اور مشاہدہ کریں کہ خدا تعالیٰ کا سلوک اپنے بندوں سے کیا رہا ہے؟ کن چیزوں سے وہ پیار کرتا ہے اور کن چیزوں سے وہ نفرت کرتا ہے تا کہ اللہ تعالیٰ کے پیار کو حاصل کریں اسی طرح دنیاوی ترقیات کے لئے بھی مشاہدہ بڑا ضروری ہے۔مثلاً ہم زراعت کو لے لیتے ہیں ( زرعی علاقوں سے بہت سے خدام اس کلاس میں آئے ہوں گے۔ہمارا ماہر فن خواہ وہ مغربی تہذیب کا تربیت یافتہ ہی کیوں نہ ہو مشاہدہ کی طرف توجہ نہیں کرتا۔اس کے اندر غرور پیدا ہو جاتا ہے جب کہ مشاہدہ کے لئے تو جھکنا پڑتا ہے۔مگر اس کی گردن اکڑی ہوئی ہوتی ہے۔وہ جھکتا نہیں اور مشاہدہ نہیں کرتا۔اس لئے وہ دنیاوی لحاظ سے ترقیات نہیں کرتا۔یا ترقیات کے ان مواقع کو کھو بیٹھتا ہے جو اس شخص کو حاصل ہوتے ہیں۔جوان عاجزانہ راہوں کو اختیار کرتا ہے جو اسلام نے بتائی ہیں اور زمین کی طرف جھکتا ہے اور جھک کے وہ مشاہدہ کرتا ہے لیکن وہ شخص جس کی گردن اکڑی ہوئی ہے وہ مشاہدہ نہیں کر سکتا اور مشاہدے سے فائدہ نہیں اُٹھا سکتا۔چین کا ایک واقعہ بیان کرتا ہوں۔جو عاجزانہ مشاہدہ کی ایک دلیل ہے۔انہوں نے اسلام کا یہ اصول اپنی زندگیوں میں اپنا لیا ہے کہ ہر شخص کی زندگی دوسرے کے لئے کچھ اسباق مہیا کرتی ہے۔یہ کہنا کہ میں اتنا اونچا ماہر زراعت ہوں کہ ہر دوسرے کو مجھ سے سیکھنا چاہیئے اور مجھے کسی دوسرے سے سیکھنے کی ضرورت نہیں غلط ہے۔کیونکہ ہر زمیندار کا مشاہدہ ہر ماہر زراعت کے لئے کچھ نہ کچھ اسباق مہیا کرتا ہے اور اسے پتہ لگنا چاہیئے اگر قوم نے یا بنی نوع انسان نے انفرادی اور اجتماعی بہتری اور بہبودی حاصل کرنی ہے۔چنانچہ اس اصول کو اپنا کر چین نے ایک مہم جاری کی ہے اس کو وہ اس طرح کہتے ہیں learn from the poor غریب سے علم حاصل کرو۔ان کی یونیورسٹی کے چوٹی کے جو ماہرین ہیں ان کو وہ گاؤں میں بھیج دیتے ہیں۔ان کے بعض علاقے ایسے بھی ہیں جہاں ہمارے ملک کی طرح بعض لوگ دستخط کرنا بھی نہیں جانتے۔پچھلے دنوں میں نے ایک رسالے میں پڑھا کہ ایک خاص علاقہ جو وہاں کی یونیورسٹی کے ایک چوٹی کے ماہر زراعت کے سپرد ہے۔وہ وہاں جاتا رہتا ہے۔تاکہ وہ خود مشاہدہ کرے لوگوں سے پوچھے کہ تم نے کیا دیکھا۔