مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 33 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 33

33 فرموده ۱۹۶۶ء دو مشعل راه جلد دوم کسی روز شام کو اس حالت میں سوئیں کہ انہوں نے کسی کی کسی رنگ میں مدد نہ کی ہو تو ان کیلئے رات کو سونا مشکل ہو جاتا ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کا اس جماعت پر بڑا فضل اور احسان ہے۔دنیا میں اور کہیں آپ کو یہ نظارہ نظر نہیں آئے گا۔لیکن چونکہ یہ لوگ اللہ تعالیٰ کیلئے کام کرتے ہیں اس لئے مجھے اشارہ بھی ان کے نام نہیں بتانے چاہئیں۔لیکن مجھے ذاتی طور پر بغیر ان کے بتائے ایسے لوگوں کا علم ہے جو روز کسی نہ کسی کی کسی نہ کسی رنگ میں مدد کرتے ہیں۔پیسے کے ساتھ بھی اور دوسرے رنگ میں بھی۔یہ بھی بڑی چیز ہے کہ آپ کسی سے ہنس کر بات کر دیں۔اس کی تکلیف کے بیان کو ہمدردی سے سنیں اور اس سے ہمدردی کا اظہار کریں۔خواہ بعد میں آپ معذرت ہی کر دیں اور کہہ دیں مجھے بڑا ہی دکھ ہے کہ میں آپ کی کوئی مدد نہیں کر سکتا۔آپ کے پاس مثلاً ایک آدمی آتا ہے اسے پچاس روپیہ کی ضرورت ہے۔آپ کی حالت ایسی ہے کہ آپ اسے پچاس روپیہ نہیں دے سکتے۔اگر آپ محمل کے ساتھ اور ہمدردی کے ساتھ اس کی باتوں کو سننے کے بعد اس کو کہیں گے کہ کاش میرے پاس پچاس روپے ہوتے تو میں آپ کی اس ضرورت کو پورا کر دیتا۔لیکن بڑا افسوس ہے کہ اس وقت میرے پاس اس قدر رو پے نہیں۔تو آپ کے ایسا کہنے سے اس کی آدھی تکلیف دور ہو جائے گی اور وہ سمجھے گا کہ دنیا میں میرا بھی کوئی ہمدرد ہے۔اور اگر آپ اپنی تاریخ پر نگاہ ڈالیں تو ہزاروں آدمی ایسے ہیں جن کے ساتھ کسی احمدی نے ہمدردی کا سلوک کیا تو ان کی توجہ اس طرف ہوئی کہ جس جماعت کی طرف یہ شخص منسوب ہے مجھے اس کا لٹریچر پڑھنا چاہیئے۔مجھے ان کی باتیں سنی چاہئیں۔آخر کیا بات ہے کہ یہ لوگ اس دنیا سے کچھ بے تعلق معلوم ہوتے ہیں۔اب دیکھو آپ کے منہ سے ایک لفظ بھی تبلیغ کا نہیں نکلا۔لیکن آپ کے حسن سلوک کے نتیجہ میں وہ شخص مجبور ہوگیا کہ وہ جماعت احمدیہ کا لٹریچر پڑھے اور اس کی باتیں سنے اگر وہ پڑھ نہیں سکتا۔غرض ہر نیکی کے کام میں اللہ تعالیٰ نے کئی پہلو ایسے رکھے ہیں کہ ادھر کسی نے کوئی نیکی کا کام کیا اور ادھر فرشتہ پہنچ گیا اور اس نے کہا اے خدا تیرے بندہ نے جو کام کیا ہے اس میں فلاں نیکی کی بات بھی تو ہے۔تو اس نے کہا اچھا اس کو ادھر سے بھی ثواب دے دو۔صحت جسمانی تیسری چیز ہے صحت جسمانی۔آپ کو پتہ ہی ہے کہ میں نے اپنی آدھی عمر خدام الاحمدیہ میں بحیثیت صدر کے گزاری ہے۔لیکن ایک چیز جو مجھے سمجھ نہیں آتی تھی آج ہی سمجھ آئی ہے۔جب میں آپ کیلئے سوچ رہا تھا تو میرے دماغ میں آیا کہ حضرت مصلح موعودؓ نے صحت جسمانی اور ذہانت کو بریکٹ کر کے ایک ہی شعبہ بنادیا تھا۔سوچ رہا تھا تو یکدم میرے ذہن میں قرآن کریم کی ایک آیت کا ٹکڑ آیا اور وہ ٹکڑا یہ ہے إِنَّ خَيْرَ مَنِ اسْتَأْجَرُتَ الْقَوِيُّ الْآمِينُ (قصص :۲۷) یہ فقرہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے متعلق ان دولڑکیوں نے اپنے باپ کو کہا تھا۔جن کے جانوروں کو آپ