مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 32 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 32

فرموده ۱۹۶۶ء 32 دد مشعل راه ل راه جلد دوم پر دفتر کی طرف سے بتایا گیا کہ بجٹ میں خدمت خلق کیلئے کوئی علیحدہ مد نہیں۔صرف ۲۰ ہزار روپے ایک ریز روفنڈ میں جمع ہیں۔اس ریز روفنڈ سے ضرورت پڑنے پر خدمت خلق کے سلسلہ میں بھی خرچ کیا جاتا ہے۔اس کے بعد حضور نے فرمایا: - پہلے خدمت خلق ریز روفنڈ ہوا کرتا تھا۔لیکن اب بعض مصالح کے پیش نظر اسے عام ریز روفنڈ میں مدغم کر دیا گیا ہے اور ضرورت پڑنے پر اسی ریز روفنڈ سے خدمت خلق کے کام پر بھی خرچ کیا جا سکتا ہے۔مثلاً پچھلے سال جب ہماری قوم کو ( ڈیفنس کے سلسلہ میں ) ضرورت پڑی تو اس ریز روفنڈ سے مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ نے ڈھائی ہزار روپیہ کی رقم حکومت کے قومی فنڈ میں بھجوائی۔اس طرح اب مثلاً مشرقی پاکستان میں ضرورت پڑتی رہتی ہے وہاں بھی شاید روپیہ بھیجنا پڑے۔یہ تو ہے مرکزی فنڈ۔لیکن ہر ایک احمدی نوجوان کا یہ فرض ہے (بڑوں کا بھی فرض ہے لیکن اس وقت میں ان کے متعلق کچھ نہیں کہ رہا) کہ وہ خدمت خلق کی طرف بہت ہی توجہ دے۔خدمت خلق جس منبع سے نکلی ہے پتہ ہے وہ کیا ہے؟ وہ منبع ہے لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ أَلَّا يَكُونُوا مُؤْمِنِين“ اس آیت میں نبی اکرم ﷺ کے دل کی کیفیت بتائی گئی ہے۔یہ دیکھ کر کہ لوگ مصیبت میں پڑے ہیں ان کا مداوا کوئی نہیں ہور ہا۔یہ اپنے علاج اور اپنی صحت کی طرف کوئی توجہ نہیں دے رہے۔آپ کے دل میں اتنا درد پیدا ہوتا تھا ، اتنی تڑپ اور توجہ پیدا ہوتی تھی کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔تو نے اپنا یہ حال بنا رکھا ہے کہ ان لوگوں کیلئے اپنی جان دینے کو تیار ہوگیا ہے۔اس ذہنیت کے سرچشمہ سے خدام الاحمدیہ کی خدمت خلق کا جذبہ نکلا ہے۔پس اپنے آقا محمد رسول اللہ ﷺ کے نام کی قدر کرتے ہوئے اس پر قربان ہونے کیلئے ہر دم اور ہر آن خدمت خلق کی ذہنیت پیدا کرو۔جہاں کہیں کوئی مصبیت زدہ ہو اس کی مصیبت کو دور کرنے کا پہلا فرض آپ کا ہے۔پھر کسی اور کا ہو گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک جگہ فرمایا ہے کہ اگر میں نماز پڑھ رہا ہوتا ہوں اور میرے کان میں کسی دردمند کی پکار آ جاتی ہے تو میرا دل چاہتا ہے کہ جس طرح ہو سکے میں اس کی تکلیف دور کر سکوں اور اس کو آرام اور سکون پہنچا سکوں اور ایسا کرنے کی خاطر میرا دل چاہتا ہے کہ میں نماز توڑ دوں اور اس کے پاس پہنچ جاؤں۔جب میں نے بولنا شروع کیا تھا تو مجھے احساس تھا کہ میں بیمار ہوں۔اور تقریر کے بعد اس بات کا زیادہ احساس ہو جائے گا۔کہ میں بیمار ہوں۔لیکن چونکہ دوستوں کو واپس جانا ہے اس لئے اب میں اپنی تقریر مختصر کر دیتا ہوں۔آپ اپنے اندر خدمت خلق کا جذبہ پیدا کریں اور پھر اس جذبہ کو سیر کرنے کیلئے اپنے لئے موقعہ بہم پہنچا ئیں۔ایک دفعہ جب یہ جذبہ پیدا ہو جائے گا تو وہ کہے گا کہ اب میرے سیر کرنے کیلئے سامان پیدا کر و۔جب بھوک بھڑک اٹھتی ہے تو جسم کہتا ہے کہ کھانے کو کچھ لاؤ۔اگر آپ کے دل میں آپ کے دماغ میں اور آپ کی روح میں واقعہ میں صحیح معنی میں خدمت خلق کا جذبہ پیدا ہو جائے گا اور پھر اس کی سیری کے سامان بھی پیدا ہوتے جائیں گے ( جبکہ میں نے کہا ہے یہ جذبہ نبی اکرم ﷺ کے عظیم سر چشمہ سے نکلا ہے ) آپ کا نفس خود آپ کو کہے گا کہ میں سیر نہیں ہورہا۔اس کیلئے سامان پیدا کرو۔بہت سے لوگ ایسے ہیں جن کو میں ذاتی طور پر جانتا ہوں کہ اگر وہ